افریقہ کے دریاؤں کے ‘خاموش شکاری’: نائل مگرمچھ حقیقت یا بھوت؟

Nile crocodile Nile crocodile

افریقہ کے دریاؤں کے ‘خاموش شکاری’: نائل مگرمچھ حقیقت یا بھوت؟

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
افریقہ کے میٹھے پانیوں میں پائے جانے والے نائل مگرمچھ کو براعظم کا سب سے طاقتور شکاری قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ انتہائی صبر آزما اور درست حملہ کرنے والا جانور ہے جو اپنے شکار کو حیران کرنے کے لیے اچانک وار کی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے۔ نائل مگرمچھ اپنی خاموشی اور پانی میں مدغم رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے اکثر “گہرائی کے بھوت” کے استعارے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ حیاتیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نائل مگرمچھ ایک حقیقی، قدیم اور نہایت خطرناک اپیکس پریڈیٹر ہے۔ “بھوت” کی اصطلاح یہاں اس کے اسٹیلتھی اور گھات لگا کر شکار کرنے کے انداز کی علامت ہے، کیونکہ یہ طویل وقت تک پانی میں تقریباً ساکت رہ سکتا ہے، صرف آنکھیں اور نتھنے سطح پر دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ ماحول میں گھل مل جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق نائل مگرمچھ ہر سال افریقہ میں سینکڑوں، اور بعض اندازوں کے مطابق ایک ہزار سے زائد انسانی ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہ دنیا کے دوسرے بڑے رینگنے والے جانوروں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی لمبائی 20 فٹ (تقریباً 6 میٹر) سے زیادہ اور وزن 1,000 کلوگرام سے زائد ہو سکتا ہے۔ ماہرین ان کے جبڑوں کو حیوانی دنیا کی طاقتور ترین بائٹ فورسز میں سے ایک قرار دیتے ہیں، جو تقریباً 5,000 پی ایس آئی تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

Advertisement

تحقیقی رپورٹس کے مطابق نائل مگرمچھ گھات لگا کر حملہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور گھنٹوں یا دنوں تک پانی میں بے حرکت رہ سکتے ہیں۔ دیگر جانوروں کے برعکس، جو صرف خطرہ محسوس ہونے پر حملہ کرتے ہیں، نائل مگرمچھ انسانوں کو بھی فعال طور پر شکار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انواع لاکھوں برس سے تقریباً غیر تبدیل شدہ حالت میں موجود ہیں اور ان کی ارتقائی تاریخ قدیم دور تک پھیلی ہوئی ہے۔