اسلام آباد (صداۓ روس)
لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر کسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ درخواست گزار نے تمام دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ ایف آئی اے نے صرف اس خدشے پر سفر روکا تھا کہ شاید وہ دبئی سے واپس نہ آئے۔ درخواست گزار کسی مقدمے، انکوائری، بلیک لسٹ یا ای سی ایل میں شامل نہیں تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بیرون ملک سفر کرنا آئین کے تحت بنیادی حق ہے۔ ایف آئی اے کے اختیارات ہیں مگر وہ لامحدود نہیں۔ عدالت نے کہا کہ آف لوڈنگ کے وقت تفصیلی اور بامعنی وجوہات ریکارڈ کی جائیں، مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور دیے گئے جوابات بھی محفوظ کیے جائیں۔ جہاں ممکن ہو انٹرویو کو الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کیا جائے اور آف لوڈنگ آرڈر کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کی جائے۔ عدالت نے شہری کو ہرجانے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق بھی دیا۔