ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 76 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 72 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو شدید متاثر کر سکتی ہے کیونکہ اس راستے سے دنیا کی ایک پانچویں سمندری خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ سے قبل اس آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی اور تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے پر آ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے تین ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے ہیں: اگر تیل کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل رہی تو عالمی ترقی 3.1 فیصد رہے گی، اگر قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو شرح ترقی 2.5 فیصد تک گر جائے گی، اور شدید ترین صورت میں جب قیمت 125 ڈالر فی بیرل ہو جائے تو عالمی معیشت 2 فیصد کی سست شرح نمو پر آ جائے گی، جو عالمی کساد بازاری کے قریب ہے۔ دوسری جانب عالمی بینک کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی بندش جولائی تک ختم ہو جاتی ہے تو برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے، جو 2025 کی سطح سے 36 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی بینک نے عالمی افراط زر 2026 میں بڑھ کر 4 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے جو 2025 میں 3.3 فیصد تھی۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی تاہم حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔