روس کے ساتھ براہِ راست جنگ کا خدشہ ہے، فرانسیسی آرمی چیف کا انتباہ

Fabien Mandon Fabien Mandon

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

فرانس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر فابین مینڈن نے پارلیمان کو آگاہ کیا ہے کہ روس کے ساتھ براہِ راست جنگ کا امکان ان کی “بنیادی تشویش” ہے، اور اس کے پیش نظر فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ میں روسی خطرہ بدستور موجود ہے اور مسلح افواج کو ممکنہ حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس ایک “خطرناک دور” سے گزر رہا ہے اور فوج کو مضبوط بنانے کے لیے فوری سرمایہ کاری درکار ہے۔ فرانسیسی حکومت نے فوجی بجٹ میں بڑے اضافے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت 2030 تک دفاعی اخراجات میں 36 ارب یورو کا اضافہ کیا جائے گا، جبکہ مجموعی سالانہ بجٹ 76.3 ارب یورو تک پہنچ جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق فرانس اپنی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنا چاہتا ہے، جس میں دھماکہ خیز ڈرونز، رہنمائی شدہ بموں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعداد بڑھانا شامل ہے۔ اس حکمت عملی کو “جنگی معیشت” کی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یورپ میں اس وقت فوجی تیاریوں میں مجموعی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں جرمنی بھی دفاعی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اپنی فوجی تعداد میں اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب روس نے مغربی ممالک کے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یورپ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ روسی وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے کہا کہ ماسکو کو ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔