روس نے کینسر کے علاج میں تاریخی پیش رفت کرلی

Cancer patient Cancer patient

ماسکو (صداۓ روس)

روس میں melanoma (جلد کے کینسر) کے ایک مریض کو دنیا کا پہلا ذاتی نوعیت کا کینسر ویکسین دیا گیا ہے، جسے بیماری کے علاج میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ روسی وزارتِ صحت نے TASS کو بتایا کہ گزشتہ سال دو مقامی ادویات منظور کی گئی تھیں: Neooncovac (mRNA کی بنیاد پر melanoma کے لیے) اور Oncopept (پیپٹائیڈ علاج)۔ دونوں کی انسانی آزمائشیں 2025 میں شروع ہوئی تھیں۔ منگل کو Neooncovac ویکسین کا پہلا مریض، 60 سالہ مرد، جسے سٹیج تھری جلد کا کینسر تھا، کو دی گئی۔ یہ ویکسین گمالیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی اینڈ مائیکرو بایولوجی نے تیار کی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے سائنسی ڈائریکٹر الیگزینڈر گنزبرگ نے کہا، “اب تک مریض کی حالت اچھی ہے، ویکسین سے کوئی منفی ردعمل نہیں ہوا۔ یہ ویکسین خاص طور پر میٹاسٹاسس (کینسر کے پھیلاؤ) سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔” مریض کے ٹیومر اور نارمل ٹشو سے نمونے لے کر جینوم کا تجزیہ کیا گیا اور ایک ایسا حسبِ ضرورت ویکسین تیار کیا گیا جو مدافعتی نظام کو کینسر کی خلیوں کو پہچان کر تباہ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔

نیشنل میڈیکل ریسرچ سینٹر آف ریڈیالوجی کے سربراہ آندری کاپرین نے کہا کہ “یہ بنیادی طور پر ایک مختلف طریقہ ہے — صرف بیماری کا علاج نہیں بلکہ مدافعتی نظام کو تربیت دینا کہ وہ خطرناک خلیوں کو پہچان کر انہیں ختم کرے۔” مریض کو 8 سے 9 ڈوزز 2 سے 3 ہفتوں کے وقفے سے دی جائیں گی۔ تین ماہ کے علاج کے بعد نتائج سامنے آئیں گے۔ پری کلینیکل ٹرائلز میں جانوروں پر تجربات میں کئی کیسز میں ٹیومر غائب ہو گئے تھے اور تقریباً 90 فیصد کیسز میں میٹاسٹاسس پر اثر ہوا تھا۔
وزیر صحت میخائل مراشکو نے بتایا کہ Neooncovac جلد ہی قومی ہیلتھ انشورنس کے تحت مفت علاج کے لیے دستیاب ہو جائے گی۔
گمالیا سینٹر، جس نے پہلی رجسٹرڈ کووڈ ویکسین Sputnik V بنائی تھی، اب pancreatic، kidney اور non-small cell lung cancer سمیت دیگر کینسروں کے علاج پر بھی کام کر رہا ہے۔