ماسکو (صداۓ روس)
روس کے ایک دفاعی ادارے نے ایک ایسے خودکار ڈرون کا تجربہ کیا ہے جو مکینکی بازو کی مدد سے مارٹر فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاری کردہ ویڈیو میں اس بغیر پائلٹ کے زمینی ڈرون کو برف سے ڈھکے تربیتی میدان میں اپنے ہتھیاری نظام کے ساتھ کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ چھوٹا خودکار زمینی ڈرون اپنے اندر موجود گولہ بارود کو مکینکی بازو کے ذریعے اٹھا کر مارٹر میں ڈالتا ہے اور فائرنگ کے عمل کو مکمل کرتا ہے۔ یہ نظام “کوریئر” نامی پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ہے، جسے پہلی بار 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس پلیٹ فارم پر مختلف ہتھیاری نظام آزمائے جا رہے ہیں۔ ایک شکل میں اسے ہلکے ہتھیاروں کے برج سے لیس کیا گیا ہے جو یوکرین جنگ میں استعمال بھی ہو رہا ہے، جبکہ دوسری شکل میں اسے آتش گیر راکٹ لانچر سے آراستہ کیا گیا ہے۔ مارٹر والے اس نظام کو “باگولنک۔82” نام دیا گیا ہے، جو سوویت دور کے 82 ملی میٹر مارٹر پر مبنی ہے۔ ویڈیو کے مطابق مکینکی بازو کو ہر گولہ لوڈ کرنے میں تقریباً پانچ سیکنڈ لگتے ہیں، جس کے باعث اس کی رفتار انسانی عملے کے مقابلے میں کم ہے۔
تاہم اس ڈرون کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خطرناک علاقوں میں انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر کام کر سکتا ہے۔ اس کی مارٹر رینج تقریباً چار کلومیٹر سے کم بتائی گئی ہے، جو بعض حالات میں ایک محدودیت سمجھی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نظام عام گاڑیوں کے مقابلے میں کم حرارت پیدا کرتا ہے، جس کے باعث اسے حرارتی نگرانی کے نظام کے ذریعے شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں تیزی آئی ہے اور اب کم لاگت، بڑی تعداد میں تیار ہونے والے اور میدان جنگ میں فوری طور پر ڈھالے جانے والے نظاموں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔