سعودی عرب نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان عدم جارحیت معاہدہ پیش کردیا

Saudi Arabia embassy in Kabul Saudi Arabia embassy in Kabul

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سعودی عرب نے ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ ممالک کے درمیان عدم جارحیت کا معاہدہ تجویز کیا ہے۔ یہ تجویز 1975 کے ہیلسنکی معاہدے کی طرز پر تیار کی گئی ہے۔
فنانشل ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور مستقبل میں کسی نئی جنگ سے بچنا ہے۔ متعدد یورپی یونین ممالک اور اداروں نے اس سعودی تجویز کی حمایت کی ہے اور خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں تاکہ ایران کو یقین دہانی ہو سکے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ شروع کی تھی۔ 7 اپریل کو وائٹ ہاؤس نے دو ہفتوں کے لیے باہمی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق 40 دن کی جارحیت میں 3,375 ایرانی ہلاک ہوئے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے تھے لیکن طویل مدتی تصفیے پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔