قسط – 5: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –

کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –
قسط – 5:

اشتیاق ہمدانی – ماسکو نامہ

کیمرے، رپورٹس اور دنیا تک پہنچتی کہانیاں

ہسپتال اور پریس بریفنگ کے بعد دورے کا باقاعدہ حصہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا، لیکن صحافیوں کا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

درحقیقت ایسے دوروں میں اصل کام اکثر واپسی سے پہلے شروع ہوتا ہے۔

ہر صحافی اپنے نوٹس مرتب کر رہا تھا۔

کوئی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔

کوئی متاثرہ عمارتوں کی تصاویر منتخب کر رہا تھا۔

کوئی اپنی ابتدائی رپورٹ لکھ رہا تھا۔

اور کوئی اپنے ادارے کو براہ راست اپ ڈیٹس بھیج رہا تھا۔

اسی دوران روسی میڈیا کے مختلف نمائندے غیر ملکی صحافیوں سے ان کے تاثرات بھی لے رہے تھے۔

مجھے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔

میں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور طلبہ کو نشانہ بنانے والے واقعات ہمیشہ انسانیت کے لیے ایک المیہ ہوتے ہیں۔

میں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی واقعے کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے، اور اسی لیے ایسے دوروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

میں نے اپنے تاثرات میں اس سانحے کو اُن واقعات کا تسلسل قرار دیا جن میں تعلیمی ادارے اور معصوم طلبہ جنگ اور تشدد کی زد میں آتے رہے ہیں۔

میری گفتگو کو روسی میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نشر کیا گیا۔

بعد ازاں یہ انٹرویو آن لائن اور ٹیلی ویژن نشریات کا حصہ بھی بنا۔

میرے لیے یہ صرف ایک انٹرویو نہیں تھا بلکہ اس دن کے مشاہدات کو دنیا تک پہنچانے کی ایک ذمہ داری تھی۔

اس پورے سفر میں میرے ساتھی اور نوجوان ویڈیو جرنلسٹ **حسن رضا** کا کردار بھی انتہائی اہم رہا۔

جس لمحے ہم اسٹاروبیلسک کالج کے احاطے میں پہنچے، حسن رضا نے اپنا کیمرہ سنبھال لیا اور پھر پورے دورے کے دوران مسلسل ریکارڈنگ میں مصروف رہے۔

تباہ شدہ عمارتیں۔

کانچ سے بھرے کوریڈور۔

بکھری ہوئی کتابیں۔

ہاسٹل کے کمرے۔

یادگاری مقام پر رکھی موم بتیاں اور پھول۔

انسانی حقوق کمشنر کی گفتگو۔

گورنر کی پریس بریفنگ۔

اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں کی سرگرمیاں۔

یہ سب کچھ ان کے کیمرے میں محفوظ ہو رہا تھا۔

بعد ازاں انہی تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر ہم نے پاکستان کے مختلف میڈیا اداروں کو مواد فراہم کیا۔

ٹی وی چینلز۔

ویب سائٹس۔

اخبارات۔

اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز تک یہ تصاویر اور ویڈیوز پہنچائی گئیں۔

ہماری کوشش تھی کہ جو کچھ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی دوسروں تک بھی پہنچے۔

اس میں نہ کوئی مبالغہ ہو۔

نہ کوئی کمی۔

اور نہ ہی کوئی ایسی بات شامل کی جائے جو مشاہدے کا حصہ نہ ہو۔

اس دورے کی ایک اور اہم بات مختلف ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں کی موجودگی تھی۔

ہر صحافی اپنے پس منظر، اپنے تجربے اور اپنے ادارے کی پالیسی کے مطابق چیزوں کو دیکھ رہا تھا، لیکن ایک حقیقت سب کے سامنے مشترک تھی۔

وہ تباہ شدہ عمارتیں۔

وہ ہاسٹل۔

وہ یادگار۔

اور وہ شہر جو ابھی تک اس سانحے کے اثرات محسوس کر رہا تھا۔

انسانی حقوق کمشنر یانا لانتراٹووا نے بعد میں کہا کہ انہوں نے خود غیر ملکی صحافیوں کے تاثرات دیکھے ہیں۔

ان کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے بہت سے صحافی، جو ماضی میں جنگی علاقوں اور انسانی بحرانوں کی رپورٹنگ کر چکے ہیں، تباہ شدہ ہاسٹل کے سامنے آ کر خاموش ہو گئے تھے۔

ان کے بقول بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف اعداد و شمار یا سرکاری بیانات میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

وہ صرف دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

دن بھر کی مصروفیات کے بعد غیر ملکی صحافیوں کے لیے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں کھانے کا انتظام کیا گیا۔

یہ شاید پورے دن کا واحد موقع تھا جب سب ایک نسبتاً پرسکون ماحول میں ایک جگہ جمع ہوئے۔

لیکن گفتگو کا موضوع اب بھی وہی تھا۔

کوئی کالج کی عمارت کے بارے میں بات کر رہا تھا۔

کوئی ہاسٹل کے کمروں کا ذکر کر رہا تھا۔

کوئی ہسپتال کے دورے کے حوالے سے گفتگو کر رہا تھا۔

اور کوئی اپنی رپورٹ مکمل کرنے میں مصروف تھا۔

میزوں پر کھانا موجود تھا، لیکن بہت سے لوگ ابھی تک اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کیمروں کے ساتھ مصروف تھے۔

صحافیوں کے لیے ایسے لمحات شاید معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔

لیکن اس روز گفتگو میں ایک غیر معمولی سنجیدگی موجود تھی۔

شاید اس لیے کہ سب نے ایک ایسا منظر دیکھا تھا جسے صرف خبروں کی سرخیوں میں سمویا نہیں جا سکتا تھا۔

شام ڈھل رہی تھی۔

واپسی کا وقت قریب آ رہا تھا۔

اور ہم سب ایک ایسے دن کے اختتام کی طرف بڑھ رہے تھے جو اپنی یادیں بہت دیر تک ہمارے ساتھ رکھنے والا تھا۔