قسط – 2: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –

کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –
قسط – 2:

اشتیاق ہمدانی – ماسکو نامہ

مختصر بریفنگ کے بعد ہمیں کالج اور ہاسٹل کے معائنے کے لیے مختلف گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

روسی حکام اور مترجمین ہمارے ساتھ تھے تاکہ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے جا سکیں اور انہیں واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔

چند لمحوں بعد ہم اس عمارت کے اندر داخل ہوئے جس کے بارے میں دنیا بھر میں خبریں نشر ہو رہی تھیں۔

دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی محسوس ہوا کہ بعض اوقات خاموشی بھی چیخ رہی ہوتی ہے۔

فرش پر کانچ کے بے شمار ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔

ہر قدم انتہائی احتیاط سے رکھنا پڑ رہا تھا۔

عمارت کے مختلف حصے حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں، متاثرہ حصے اور بکھرا ہوا سامان اس رات کی ہولناکی کو بیان کر رہے تھے جس نے اس تعلیمی ادارے کی خاموش راہداریوں کو ماتم کدے میں بدل دیا تھا۔

کوریڈورز میں چلتے ہوئے بار بار یہی احساس ہوتا تھا کہ چند دن پہلے یہاں زندگی موجود تھی۔

یہی راہداریوں طلبہ کے آنے جانے سے آباد ہوتی ہوں گی۔

یہاں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہوں گی۔

دوست ایک دوسرے سے ملتے ہوں گے۔

کلاسوں اور ہاسٹل کے درمیان معمول کی زندگی رواں ہوگی۔

لیکن اب ہر طرف خاموشی تھی۔

ایک ایسی خاموشی جو دل پر بوجھ بن رہی تھی۔

ہم ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا رہے تھے۔

ہر کمرہ اپنی الگ کہانی سنا رہا تھا۔

کہیں کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔

کہیں کاپیاں اور نوٹس زمین پر پڑے تھے۔

کہیں ذاتی فائلیں اور تعلیمی دستاویزات ملبے کے درمیان نظر آ رہی تھیں۔

کئی مقامات پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وقت اچانک رک گیا ہو۔

جیسے کسی نے معمول کی زندگی کو ایک لمحے میں منجمد کر دیا ہو۔

ہمارے ساتھ موجود حکام واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے تھے اور صحافی مسلسل سوالات پوچھ رہے تھے۔

کئی صحافی خاموشی سے کمروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ کوئی بکھری ہوئی کتابوں کو دیکھ رہا تھا، کوئی ٹوٹی کھڑکیوں اور فرش پر پڑے کانچ کے ٹکڑوں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا، اور کوئی طلبہ کے ذاتی سامان کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتا تھا۔

میرے ساتھی حسن رضا بھی مسلسل مختلف زاویوں سے ریکارڈنگ میں مصروف تھے۔ وہ صرف تباہی نہیں بلکہ اس ماحول کو محفوظ کرنا چاہتے تھے جو الفاظ سے زیادہ اثر رکھتا تھا۔

ایک جگہ کھڑکی کے قریب کتابوں کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔

دوسری جگہ ذاتی استعمال کی چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے یہاں رہنے والے لوگ ابھی کچھ دیر پہلے تک موجود تھے اور اچانک سب کچھ بدل گیا۔

جوں جوں ہم عمارت کے اندر آگے بڑھتے گئے، ماحول مزید بوجھل ہوتا گیا۔

پھر ہم ہاسٹل کے اس حصے کی طرف بڑھے جہاں طلبہ رہائش پذیر تھے۔

شاید پورے دورے کا سب سے دردناک حصہ یہی تھا۔

کلاس رومز میں تباہی دیکھی جا سکتی تھی، راہداریوں میں کانچ کے ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے، لیکن ہاسٹل کے کمروں میں داخل ہوتے ہی انسان کو احساس ہوتا تھا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں تھی، یہ کسی کا گھر تھا۔

یہ وہ جگہ تھی جہاں نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ رہتے تھے۔

جہاں وہ اپنے مستقبل کے منصوبے بناتے تھے۔

جہاں وہ امتحانات کی تیاری کرتے تھے۔

جہاں وہ اپنے اہل خانہ سے فون پر بات کرتے تھے۔

جہاں ان کی روزمرہ زندگی گزرتی تھی۔

ایک ایک کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت اچانک رک گیا ہو۔

بعض بستروں پر چادریں ابھی تک موجود تھیں۔

کچھ کمروں میں تکیے اور کمبل اپنی جگہ پر پڑے تھے۔

الماریوں سے نکلا ہوا سامان فرش پر بکھرا ہوا تھا۔

کپڑے، کتابیں، کاپیاں، ذاتی فائلیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء ہر طرف دکھائی دے رہی تھیں۔

کئی کمروں میں امتحانات کی تیاری کے نوٹس پڑے ہوئے تھے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے مالکان چند لمحے پہلے ہی یہاں موجود تھے۔

پھر اچانک کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہر چیز بدل کر رکھ دی۔

کئی کمروں میں نرم کھلونے اور بھالو اب بھی اپنی جگہ موجود تھے۔

وہ خاموشی سے ان کمروں کی نگرانی کرتے محسوس ہوتے تھے جن میں کبھی ہنسی، گفتگو اور مستقبل کے خواب بستے تھے۔

آج وہی کمرے خاموش تھے، اور ان میں موجود کھلونے اس اچانک ٹوٹ جانے والی زندگی کی گواہی دے رہے تھے۔

طالبات کے کمروں میں میک اپ کا سامان، کاسمیٹکس، پرفیوم، آئینے اور دیگر ذاتی اشیاء بھی بکھری ہوئی نظر آئیں۔

کئی چیزیں الماریوں سے باہر گری ہوئی تھیں۔

یہ تمام اشیاء اس حقیقت کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہاں معمول کی زندگی جاری تھی۔

یہ کوئی فوجی بیرک نہیں تھی۔

یہ کوئی عسکری مرکز نہیں تھا۔

یہ نوجوان طلبہ اور طالبات کا ہاسٹل تھا۔

جوں جوں ہم ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف بڑھتے گئے، دل پر بوجھ بڑھتا گیا۔

لیکن ایک منظر ایسا تھا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

کمروں اور راہداریوں میں موجود روزمرہ زندگی کی وہ خاموش نشانیاں جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے نوجوان چند لمحے پہلے تک ایک معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔

میں بار بار کوریڈور میں بکھرے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔

اور میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا:

رات کے اندھیرے میں، دھوئیں، خوف اور آگ کے درمیان یہ بچے ان کانچ کے ٹکڑوں پر کیسے دوڑے ہوں گے؟

وہ لمحہ کتنا خوفناک ہوگا؟

کتنی چیخیں گونجی ہوں گی؟

کتنے لوگ ایک دوسرے کو تلاش کر رہے ہوں گے؟

کتنے لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہوں گے؟

شاید ان سوالات کا مکمل جواب کبھی نہ مل سکے۔

لیکن ان کمروں کی خاموشی، بکھرا ہوا سامان اور ادھورے خواب بہت کچھ بیان کر رہے تھے۔

ہاسٹل کے ان کمروں میں کھڑے ہو کر پہلی بار محسوس ہوا کہ جنگ اور تنازعے کی خبروں میں جن اعداد و شمار کا ذکر ہوتا ہے، ان کے پیچھے اصل میں انسان ہوتے ہیں۔

انسان جن کے خواب ہوتے ہیں۔

جن کے خاندان ہوتے ہیں۔

اور جن کے مستقبل ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)