آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے، مودی

Narendra Modi Narendra Modi

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
لوک سبھا (بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں) میں سوموار کو خطاب کرتے ہوئے مودی نے بتایا کہ خام تیل، گیس اور کھاد سمیت ضروری اشیاء کی بڑی مقدار بھارت اس آبی گزرگاہ کے ذریعے آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس کے باوجود ہماری حکومت کی کوشش یہ رہی ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کی سپلائی زیادہ متاثر نہ ہو اور ملک کے عام خاندانوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے — یہی ہمارا فوکس رہا ہے۔”
بھارت اپنے 85 فیصد تیل اور تقریباً آدھی قدرتی گیس درآمد کرتا ہے۔ ملک کی تقریباً آدھی تیل کی سپلائی اور 55 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیلات آبنائے ہرمز سے ہو کر آتی ہیں۔
مودی نے کہا کہ بھارت جنگ زدہ اور جنگ سے متاثرہ ممالک کے ساتھ وسیع تجارتی روابط رکھتا ہے۔ “جہاں جنگ جاری ہے وہ علاقہ ہماری دوسری ممالک کے ساتھ تجارت کا بھی اہم راستہ ہے۔”
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی بھارت کے لیے اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “خلیج کے ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان سمندروں میں چلنے والے تجارتی جہازوں پر بھارتی عملے کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ “ان تمام وجوہات کی بنا پر بھارت کی تشویش قدرتی طور پر زیادہ ہے۔”
مودی نے بتایا کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والا موجودہ تنازعہ عالمی معیشت اور لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ “اس لیے پوری دنیا تمام فریقین سے اس بحران کے جلد از جلد حل کی اپیل کر رہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں امن کی آواز بلند کرتا رہا ہے اور نیو دہلی کا خیال ہے کہ مکالمہ اور سفارتکاری ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ “اس جنگ میں کسی کی جان کا نقصان انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے بھارت کی کوشش ہے کہ تمام فریقین جلد از جلد پرامن حل کی طرف بڑھیں۔”