ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ایران کے خلاف امریکی حملوں میں شامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں “ہمت کی کمی” ہے۔ اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ میلونی کے مؤقف پر حیران ہیں اور انہیں توقع تھی کہ وہ امریکا کا ساتھ دیں گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکا اور اٹلی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میلونی جنگ میں امریکا کی مدد نہیں کرنا چاہتیں اور انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اٹلی ایران سے تیل کے معاملے پر کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اگر جوہری صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو یہ اٹلی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جورجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیانات کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے کا تصور نہیں کر سکتیں جہاں مذہبی رہنماؤں کو سیاسی قیادت کے تابع کیا جائے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے پوپ Pope Leo پر بھی تنقید کی تھی، جس پر اطالوی وزیر اعظم نے سخت ردعمل دیا۔ میلونی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا اٹلی کا ایک اہم اتحادی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط اتحاد کا مطلب یہ بھی ہے کہ اختلاف کی صورت میں کھل کر بات کی جائے۔ ادھر ماہرین کے مطابق اٹلی میں داخلی سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، جہاں حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ایران جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال نے مغربی اتحاد میں دراڑیں نمایاں کر دی ہیں، جبکہ NATO کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔