ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی فضائیہ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں پہلی بار بی-1بی لانسر اسٹریٹجک بمبار طیارے کو شامل کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ ائیر بیس سے اڑان بھری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مشن میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ۔
ذرائع کے مطابق اس طیارے نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ساحلی فوجی انفراسٹرکچر، ریڈار سسٹم، میزائل اسٹوریج کی سہولیات اور ڈرون سے متعلق مقامات شامل تھے ۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں اس طیارے کے استعمال کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس نے تصدیق کی کہ ایرانی فوجی اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔
بی-1بی لانسر ایک سپرسونک لمبی دوری کا بمبار طیارہ ہے جو امریکی فوج کے ہتھیاروں میں سب سے زیادہ بھاری پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مشن میں 24 دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم یا درجنوں کروز میزائل لے جا سکتا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طیارے کا استعمال امریکی فضائی کارروائیوں کی شدت اور پیمانے میں واضح اضافہ کی علامت ہے ۔
یہ طیارے آر اے ایف فیئرفورڈ میں پہلے سے موجود امریکی بمبار دستے کا حصہ ہیں، جہاں اس وقت متعدد بی-1بی اور بی-52 طیارے تعینات ہیں ۔ برطانیہ کی جانب سے اپنے اڈوں کو امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بعد ان طیاروں کی تعیناتی ممکن ہوئی، جس سے امریکی بمباروں کو امریکی سرزمین سے پرواز کرنے کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ۔