ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

F-18 F-18

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر Donald Trump کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔ تمام ڈیموکریٹ ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے چار ارکان نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی سے قبل کانگریس سے باضابطہ منظوری نہیں لی گئی تھی۔ قرارداد پیش کرنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس Gregory Meeks نے کہا کہ کانگریس کا آئینی کردار برقرار رکھنا ضروری ہے اور ایوانِ نمائندگان انتظامیہ کے اختیارات پر نگرانی کا فریضہ انجام دیتا رہے گا۔

دوسری جانب امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر Mike Johnson نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور واشنگٹن کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ قرارداد کو قانون بننے کے لیے اب امریکی سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی، جہاں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ میں اس قرارداد کی منظوری آسان نہیں ہوگی۔ ادھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے دعوؤں کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔