ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ روس کو عالمی توانائی کی تمام منڈیوں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے ماسکو کے مفادات کے احترام کا فی الحال کوئی واضح اشارہ نظر نہیں آ رہا۔ روسی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس کو عالمی توانائی منڈیوں سے دھکیلا جا رہا ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بالآخر روس کے پاس صرف اپنی داخلی منڈی ہی رہ جائے گی۔ ان کے مطابق مستقبل میں امریکہ تعاون کی بات تو کر سکتا ہے، لیکن اگر باہمی فائدے کے منصوبوں پر کام کرنا ہے تو روس کے مفادات کو بھی اسی طرح مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی رویہ دکھائی نہیں دیتا جس سے ظاہر ہو کہ وہ روسی مفادات کو سنجیدگی سے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔
لاوروف کے مطابق امریکہ نے یورپی توانائی منڈیوں میں روس کے کردار کو محدود کرنے کی پالیسی کی حمایت کی ہے، جو دراصل عالمی سطح پر توانائی کی بالادستی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال غیر معمولی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بین الاقوامی تعلقات کے طے شدہ اصولوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی پالیسیوں میں یہ واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے مفادات کو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے یا اصول پر فوقیت حاصل ہے۔
سرگئی لاوروف نے یہ بھی خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے اور اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔