جنگ اور گرمی کی لہر: گندم کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات

Grains Grains

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

گندم کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کا ایک اہم ترین سبب بحیرہ اسود میں جاری روس یوکرین جنگ ہے۔ دونوں ممالک مل کر دنیا کی تقریباً 30 فیصد گندم برآمدات کا حصہ ہیں۔ جولائی 2026 میں یوکرین کی طرف سے بحیرہ اسود میں روسی برآمدی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے کے بعد، روس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اوڈیسا کی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں روس اور یوکرین کی گندم برآمد کرنے والی تقریباً تمام بڑی بندرگاہیں بند ہو گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا اثر گندم کی سپلائی پر 2022 میں جنگ کے آغاز سے بھی زیادہ شدید ہے، کیونکہ تب بھی کچھ بندرگاہیں کام کر رہی تھیں۔ اس رکاوٹ نے گندم کی قیمتوں کو تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جہاں فی بوشل قیمت 7 ڈالر کو عبور کر چکی ہے۔

اس صورتحال کو موسمیاتی بحران نے مزید سنگین کر دیا ہے۔ یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے فصلوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے یورپی یونین کی گندم کی پیداوار 2025 کے 310 ملین ٹن سے کم ہو کر 286.6 ملین ٹن رہ جانے کا خدشہ ہے۔ امریکا میں بھی صورتحال بہت خراب ہے، جہاں سخت گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے ملک کو 1970 کے بعد گندم کی بدترین فصل کا سامنا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی تیسری بڑی وجہ ایران جنگ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق، اس سال کھاد کی قیمتوں میں 22 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ عالمی خوراک کی قیمتوں میں 2026 میں 11.8 فیصد اور 2027 میں مزید 4.8 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ گندم کی پیداوار میں کھاد کا کلیدی کردار ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر گندم کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔