امریکا کا ایران پر محدود حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور

F-18 F-18
A U.S. Navy sailor signals for the launch of an F/A-18F Super Hornet aircraft, attached to Strike Fighter Squadron 213, from the U.S. Navy aircraft carrier USS Gerald R. Ford, while operating in support of the Operation Epic Fury attack on Iran from an undisclosed location February 28, 2026. U.S. Navy/Handout via REUTERS. THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایران پر محدود پیمانے پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ ایران کو مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔ امریکی اخبار کے مطابق یہ غور و فکر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مکمل پیمانے پر بمباری کی مہم بھی زیر غور ہے، تاہم اسے کم امکان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور امریکا ایک طویل جنگ میں پھنس سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر ممکنہ آپشن اپنے ساتھ بڑے خطرات رکھتا ہے۔ ایک جانب وسیع فوجی کارروائی سے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب اگر کارروائیاں محدود رکھی جائیں تو اسے ایران کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں واشنگٹن ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور دوسری جانب خطے کو بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔