ہومانٹرنیشنلانسانی حقوق کے ادارے اپنی افادیت کھوچکے ہیں، ایرانی صدر

انسانی حقوق کے ادارے اپنی افادیت کھوچکے ہیں، ایرانی صدر

انسانی حقوق کے ادارے اپنی افادیت کھوچکے ہیں، ایرانی صدر

ماسکو(صداۓ روس)
ماسکو پہنچنے والے اپنے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بتایا کہ ماسکو اور تہران کے دوستانہ تعلقات نے دونوں ممالک کو گزشتہ برسوں میں مضبوط تعلقات استوار کرنے اور اپنی معیشتوں کو فروغ دینے کی اجازت دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اسرائیل حماس تنازعہ سمیت دنیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر پوتن نے رئیسی کو توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران نے گزشتہ سال کے دوران دو طرفہ تعلقات میں اچھی رفتار پکڑی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا اب وہ ممالک ایرانی ریل روڈز میں بھی سرگرمی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو بین الاقوامی شمالی-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

واضح رہے شمالی-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور سمندری، ریل اور ہائی وے راستوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو سات ہزار دو سو کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، یہ کوریڈور بحیرہ بالٹک پر واقع روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کو بحیرہ کیسپین اور ایران کے راستے بھارت کے ممبئی سے ملانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ٢٠٠٢ سے شروع ہونے والے اس منصوبے میں کل گیارہ ممالک شامل ہیں۔

ملاقات کے دوران ایرانی صدر رئیسی نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اپنی اہمیت اور افادیت کھوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہر دس منٹ میں ایک بچہ شہید ہورہا ہے۔ اس سلسلے کو فوری طور پر بند کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ دنیا میں رائج ظالمانہ نظام اس کی بنیادی وجہ ہے اسی وجہ سے غزہ میں انسانی المیہ درپیش ہے۔ اسرائیلی حکومت بدترین نسل کشی کررہی ہے۔ اب تک پانچ ہزار سے زائد فلسطینی بچے شہید ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک اسرائیلی حکومت کی مسلسل حمایت کررہے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں ناکام ہونے کی وجہ سے افادیت کھوچکے ہیں۔ اس موقع پر روسی صدر نے کہا کہ فلسطین کے بارے گفتگو کرنا آج بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران کی فضاء سے گزر رہا تھا تو اتر کر صدر رئیسی سے ملاقات کا دل کررہا تھا لیکن بتایا گیا کہ آپ روس کے دورے پر روانہ ہوچکے ہیں۔

صدر رئیسی نے جواب میں کہا کہ ایران کسی بھی وقت صدر پوتن کا طیارہ وصول کرنے کے لیے تیار ہے اور روسی صدر کو دورہ ایران کی دعوت دی ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ انہوں نے دعوت قبول کر لی ہے اور وقت آنے پر وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور ایران کا دورہ کریں گے۔ روسی نے ایرانی ہم منصب سے درخواست کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو میری نیک خواہشات پہنچائیں کیونکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے بڑے حامی ہیں۔

انٹرنیشنل

56 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں