ہومتازہ ترینعقیدت کی منڈی

عقیدت کی منڈی


تحریر: زبیر حسین

دورِ حاضر میں بیت المقدس کے مکینوں پرصیہونی بربریت وبے جا تسلط نے یہ بات واضح کردی کہ دنیا میں پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا وجود انتہا کی حد تک ضروری تھا، گویا ایک ایسا ملک جس میں اسلام کا پرچم اس طرح سربلند ہو کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا زخم کسی حد تک بھر ا جاسکے۔ مگر یوں ملی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران، اسلامی جمہوریہ میں ہم نے اس آزادی کا بے دریغ استعمال اسلام کے نام پر کچھ اس طرح مرکوز رکھا کہ آج تک ہم نے ہر مذہبی، قومی، سیاسی، سماجی غرض یہ کہ ہر وہ دن جس کا ہم سے کوئی تعلق ہو یا نا ہو عقیدت سے ہی منایا۔ اب یہ ہمارے مزاج پر ٹھرا جب چاہیں یومِ کشمیر منالیں یا پھر جب فلسطینیوں کی شہادتیں ہوں تو ہم یومِ فلسطین منالیں، چونکہ سلجھی ہوئی قومیں ہمیشہ دو منٹ کی خاموشی یا علامتی سوگ کے ذریعے دنیا کے مظالم پر اظہارِ افسوس کرتی ہیں اس لئے ہم نے ہمیشہ دانستگی کا ثبوت دیتے ہوئے یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا پھر ملی نغموں اور ترانوں سے میڈم نورجہاں کے زمانے کی یادوں کو زندہ و جاویداں رکھا۔

اب خواہ وہ ہمارے اندرونی معاملات ہی کیوں نا ہوں ہم نے ہمیشہ فہم و فراست کو بروِکار لاکر ملکی قیادت کو بھی عقیدت کے تناظر سے ہی ٹٹولہ، اب عقیدت کا تعلق فقط مذہب سے ہی تو نہیں ہوتا نا اس لئے ہم اپنی اپنی سیاسی دکان کو کچھ یوں چمکاتے ہیں کہ’ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے‘،’ دوسرے صوبوں کے حکمرانوں نے تو بہت کھایا اب ہمارے صوبے کے حکمران نے کھایا تو کیا حرج ہے‘، ’یا پھر نا کھاتا ہے نا کھانے دیتا ہے ‘جیسے رہنما اصولوں نے ہماری ذہنی صلاحیتوں کو الجھنوں کی بھیڑ بھاڑ میں مصروف کر رکھا ہے۔ جب عوام کسی حد تک ان اصولوں کو مسترد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر عقیدت اس حساس معاملے پر جا کر رکتی ہے جہاں یا تو حکمران ننگے پیر مذہبی مقامات پر دکھائی دیتے ہیں یا پھرحکمرانوں کی نمازیں پڑھتی تصاویر اور ہاتھ میں تسبیح والی ویڈیوز وائرل کردی جاتی ہیں۔ ایک دورِحکومت میں وزیراعظم کا مدینہ منورہ کا دورہ کچھ یوں پیش کیا گیا کہ آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں، اس دورِ حکومت میں نوجوان ہونے والے طبقے کی عقیدت کا اندازہ لگائیں کہ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس سے قبل بھی متعدد وزیراعظم بمعہ اہل و عیال ان مذہبی مقامات کا فل پروٹوکول دورہ کرچکے ہیں، خیر ایک عقیدت کا دور وہ بھی دیکھا گیا کہ جب سعودیہ عرب سے پاکستانی عقیدت مندوں کو سزائیں کاٹ کر ملک بدر ہونا پڑا وجہ فقط یہ ٹھری کہ سرکاری دوروں پر موجود پاکستانی حکمرانوں کا نعروں کے ذریعے جینا حرام کردیا گیا تھا۔

دورِ جدید میں سوشل میڈیا کا ہم پر یہ احسان رہا کہ معلوماتی سونامی نے ہم پر بہت سے حقائق عیاں کر رکھے ہیں ورنہ ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ موجودہ حکمران سے قبل کسی کو یہ شرف حاصل ہی نہیں ہوا کہ وہ مدینہ شریف میں قدم رکھ سکیں، مختصر یہ کہ اسلامی جمہوریہ کے باشندے کسی معاملات پر مڑیں نا مڑیں مذہبی عقیدت میں ہم ہر حد پار کرنے اور ریاست میں جنگ و جدل کی مثال قائم کرنے میں دنیا کی اول نمبر آنے والی قوم کے طور پر جانے جاتے ہیں ، قصہ پھر یہاں بھی رکنے والا نہیں، مذہبی عقیدت کے عنصر کو آج دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے جگمگاتے ستارے بطور مارکیٹنگ استعمال کرتے ہیں، حالیہ ماہِ صیام میں سوشل میڈیا ویڈیو ایپ کے ذریعے کچھ ایسے ٹوٹکے دیکھنے کو میسر آئے جہاں مسلم امہ کی توجہ اپنی جانب راغب کرنے کے لئے گوروں نے بھی روزہ رکھ کر عقیدت مندوں کے دل جیت لئے، اور تو اور جہاں مذہبِ اسلام کے لئے مخالف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو عقیدت مند جس طرح راتوں رات دنیا بھر میں مشہوری مہیا کرتے ہیں وہیں عقیدت مندوں کے لئے افضل عمل یہ ہے کہ کوئی گوری یا گورا نعت، اذان یا پھر مذہب سے متعلق کوئی بیان سنا دے تو بس پھر عقیدت کی منڈی میں ان ستاروں کے بھاؤ تاؤ آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتے ہیں۔

تماشہ کچھ یوں لگا ہے کہ کسی وقت سحری اور افطاری کی نشریات پر حسین ترین ماڈلز دینِ اسلام کے فضائل بیان کرتی تھیں اب یہ کام ہمارے سوشل میڈیا کے پرستار کرتے ہیں، مگر کچھ شعور عوام میں بھی نظر آنے لگا ہے کہ سوشل میڈیا کے لوگوز پر مساجد کی ٹوپی پہنائی ہوئی میمز مہم کے تحت ان تمام ہتھکنڈوں کا بائکاٹ بھی کیا جارہا ہے، اس گڈمڈ عقیدت مندی کی مثالوں کا دائرہ کار کچھ وسیع کریں تو ماضی کا ایک رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعہ یاد آتا ہے جب ایک خاتون پارلیمانی ممبر نے دھڑلے سے کہاکہ بیت المقدس سے ہمارا لینا دینا ہی کیا وہ تو اب قبلہ ہے صیہونیوں کا، مطلب کاہے کا رولا ہم کیوں عربوں کی جنگ لڑنے لگے، پھر شاید ان کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہوا اور وہ بعد میں ابدیدہ ہو کر کہنے لگیں کہ ہمیں ایک سلطان صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے۔

فلسطینیوں کی پکار اس قوم کے لئے کوئی نئی نہیں ہم نے پٹھاخے بنا کر خود پر ذمہ داری کا بوجھ بڑھانے کے ساتھ ساتھ احساسِ زمہ داری بھی بڑھا دیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم کس طرح جنگ لڑیں، کیا ہم یہودی مصنوعات کا مکمل بائکاٹ کریں؟ لوجی کر لیتے ہیں، اب ہم یہ بھی بتاتے چلتے ہیں کہ سب سے سستی یہودی مصنوعات میں پہلے درجے میں مشروبات آتی ہیں تو بتائیں کتنے فیصد پاکستانی روزانہ کی بنیاد پر کولا شولا کا استعمال کرتی ہے؟ اب کریں مہنگی مصنوعات کی بات تو پھر یہ بھی بتائیں کہ ہم جیسے غریب ممالک میں مہنگی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کتنے فیصد براہ راست مکمل طور پر نئی خریدی جاتی ہے؟ جنابِ عالی کولا کا عالم یہ ہے کہ ہم نے مضافاتی بستیوں میں اصل کولا کے پیکنگ میں مقامی مشروب بیچنے کا کاروبار کھول رکھا ہے اور کمپیوٹر ہم دنیا کے کباڑ خانوں سے خرید کر مکمل گارنٹی کے ساتھ فروخت کرتے ہیں تو گویا اس بائیکاٹ میں بھی نقصان ہمارا اپنا ہی ٹھرا، تو اب جنگ کیسے کی جائے؟ ہاں ایک راستہ شاید ہے وہ یہ کہ ہم پٹھاخے تو فائر کرنےسے رہے منہ کے فائر ہی کردیں، یعنی اگر حکمران سرکاری سطح پر جھوٹا ہی صحیح ایک اعلان ہی کردیں کے ہم نےشاہین کا رخ تل ابیب کی جانب کر دیا ہے اور یہ کسی بھی وقت اڑان بھرنے کو تیار ہے، پھر دیکھیں دنیا کی تصویر میں رنگ اور جنگ، ٹھیک ہے اسرائیل کے پاس بھی ٹیکنالوجی ہے وہ آپ کے شاہین کو روک بھی سکتا ہے اور موڑ بھی مگر دونوں صورتوں میں نقصان تو دنیا کا ہی ہونا ہے۔

بہر حال عقیدت مندوں سے گزارش ہے کہ عقیدت کی منڈی میں جذبات کا بازار گرم کرنے کے بجائے کچھ تحریری کام سرانجام دیں، خصوصاً اوورسیز پاکستانی اگر پاکستانی سیاست اور حکمرانی کی عقیدت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے پنے ممالک میں مقامی سیاست میں حصہ لے تو اسلام اور مسلمان مخالف معاملات پر تحریری طور پر قانون سازی کی صدائیں بلند کی جاسکتی ہیں۔ دنیا کے دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھرپور کوششوں میں ہیں کہ کسی طرح اپنی آواز بلند کریں مگر جب ہم پرتشدد احتجاج کی طرف مائل ہوتےہیں تو ان کی کاوشیں بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں سوشل میڈیا مجاہد بننے کے بجائے ایسے سدباب پر غور کرنا چاہئے جو کہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکیں۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل

11 تبصرے

  1. It is in point of fact a great and helpful piece of information. I am satisfied that you just shared this helpful information with us. Please stay us up to date like this. Thanks for sharing.

  2. Здравствуйте!
    Купить Диплом Казань
    Итак, мы поделились десятью полезными сайтами, где найти информацию для диплома не составит труда. Мы готовы изготовить любые документы на взаимовыгодных условиях. Назначим опытного эксперта по вашему предмету и проконтролируем его по срокам выполнения. Поскольку наши специалисты имеют большой опыт работы в этой сфере, все заказы изготавливаются и доставляются за небольшое количество времени.https://saksx-diploms-srednee24.com/ Многие граждане по ряду причин не купили Диплом Казань пройти официальное обучение.

  3. Hi there would you mind letting me know which webhost you’re utilizing? I’ve loaded your blog in 3 different browsers and I must say this blog loads a lot quicker then most. Can you recommend a good internet hosting provider at a honest price? Thanks a lot, I appreciate it!

  4. I was just looking for this information for some time. After six hours of continuous Googleing, at last I got it in your web site. I wonder what is the lack of Google strategy that do not rank this kind of informative web sites in top of the list. Normally the top websites are full of garbage.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں