ایران اور وینزویلا کے بعد امریکا کی توجہ کیوبا پر؟
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور وینزویلا سے متعلق حالیہ امریکی اقدامات کے بعد واشنگٹن میں کیوبا کے حوالے سے ممکنہ آئندہ حکمتِ عملی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم کسی فوری فوجی آپریشن کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کے حوالے سے ’’دوستانہ کنٹرول‘‘ (Friendly Takeover) کا امکان ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا کی قیادت کے ساتھ ’’اعلیٰ سطح‘‘ پر رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ امریکی ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس حالیہ بیرونی کارروائیوں کے سیاسی اور عسکری نتائج کا جائزہ لے رہا ہے اور انہیں اپنے مقاصد کے حوالے سے کامیاب تصور کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کیوبا کی معاشی صورتحال کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو شدید مالی اور توانائی بحران کا سامنا ہے اور وہ امریکی تعاون کا خواہاں ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’’دوستانہ کنٹرول‘‘ عملی طور پر کس نوعیت کا ہوگا۔
دوسری جانب کیوبا کی حکومت نے باضابطہ طور پر کسی اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تصدیق نہیں کی، اگرچہ غیر رسمی رابطوں کی خبروں کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کیوبا کے حوالے سے کسی بھی سخت اقدام کے نتیجے میں خطے میں سیاسی عدم استحکام یا مہاجرت کے نئے بحران کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، اسی لیے امریکی انتظامیہ فی الحال مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔