ایران جنگ سے امریکہ کو بھاری منافع ہوگا، امریکی سینیٹر
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ اگر ایران میں موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو امریکہ کو خطے میں بڑا معاشی فائدہ حاصل ہوگا اور وہ دنیا کے تیل کے ذخائر کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے یہ بات فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ گراہم کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک “بہت چھوٹی قیمت” ہے۔ امریکی سینیٹر نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے اخراجات کو “بہترین سرمایہ کاری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔
گراہم نے مزید کہا کہ اگر ایران کی موجودہ حکومت ختم ہو جاتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں ایک نیا منظرنامہ سامنے آئے گا اور امریکہ کو خطے میں بڑے معاشی مواقع حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران اور وینزویلا کے پاس دنیا کے تقریباً 31 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں اور مستقبل میں ان ذخائر کے ساتھ شراکت داری امریکہ کے لیے بڑا معاشی فائدہ ثابت ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ وینزویلا کے تیل کے شعبے پر اثر و رسوخ بڑھانے کی بھی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کر دی ہے اور اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے کئی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی حکام نے جنگ کو بلا اشتعال جارحیت قرار دیتے ہوئے امریکی مطالبے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کو مسترد کر دیا ہے اور مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔