ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیویارک ٹائمز نے پیر کو رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں گرلز اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں بچ جانے والے میزائل کے ٹکڑوں پر امریکی ہتھیاروں کی مخصوص نشانات موجود ہیں۔ اخبار کے مطابق “28 فروری کو بحری اڈے اور پرائمری اسکول پر ہونے والے حملوں میں بچ جانے والے میزائل کے ٹکڑوں پر امریکی کروز میزائل کی نشانات موجود ہیں۔” ایران کی سرکاری براڈکاسٹر نے ملبے کی تصاویر جاری کی تھیں جن کا تجزیہ نیویارک ٹائمز نے کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں پر سیریل نمبر اور دیگر تفصیلات موجود ہیں جو امریکی محکمہ دفاع اور اس کے سپلائرز کی جانب سے ہتھیاروں کی درجہ بندی اور لیبلنگ کے طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہیں۔ “بچ جانے والے ٹکڑے 2014 یا اس کے بعد تیار کیے گئے امریکی ساختہ ٹوماہاک کروز میزائل کے ہیں۔” نیویارک ٹائمز نے مزید کہا کہ “ثبوت بڑھتے جا رہے ہیں کہ اسکول پر حملہ امریکی حملوں کی ایک سیریز کا حصہ تھا جو ملحقہ بحری اڈے کو نشانہ بنا رہے تھے۔”
28 فروری کو ایرانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے میناب میں گرلز اسکول پر حملہ کیا۔ تہران کی تازہ ترین معلومات کے مطابق اس حملے میں 165 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر طالبات تھیں جبکہ والدین اور اساتذہ بھی شامل تھے۔ 95 افراد زخمی ہوئے۔ 7 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسکول پر حملہ ایرانی فوج نے کیا ہے، لیکن انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ 9 مارچ کو امریکی ڈیموکریٹک سینیٹرز کے ایک گروپ نے کہا کہ میناب گرلز اسکول پر حملہ امریکی افواج نے کیا ہو گا اور پینٹاگون سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔