پٹرول لیوی میں اضافے سے حکومت کو روزانہ تقریباً 9 کروڑ روپے اضافی آمدن ہونے کا انکشاف

Petrol pump Petrol pump

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان میں پٹرولیم لیوی میں حالیہ اضافے کے بعد وفاقی حکومت کو پٹرول کی فروخت سے روزانہ تقریباً 9 کروڑ روپے اضافی آمدن حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے بعد حکومت کی آمدن میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ لیٹر ہے۔ اس میں پٹرول کی طلب تقریباً 22 ہزار ٹن جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی طلب تقریباً 19 ہزار ٹن یومیہ ہے۔ حالیہ قیمتوں کے تعین کے تحت پٹرول پر پٹرولیم لیوی بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جو پہلے کے مقابلے میں 20 روپے 97 پیسے زیادہ ہے۔ دوسری جانب ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی کم کر کے 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ چونکہ ملک میں پٹرول کی کھپت ڈیزل کے مقابلے میں زیادہ ہے، اس لیے پٹرول پر لیوی میں اضافے سے حکومت کو نمایاں اضافی آمدن حاصل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے نافذ ہونے کے بعد اب تک تقریباً 50 کروڑ روپے اضافی آمدن حاصل ہو چکی ہے۔

اگر موجودہ کھپت برقرار رہی تو حکومت کو ایک ماہ کے دوران اضافی آمدن کی مد میں تقریباً 3 ارب سے 3 ارب 50 کروڑ روپے تک حاصل ہو سکتے ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 468 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا تھا، جس میں سے جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران 828 ارب روپے پہلے ہی جمع کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث حکومت کو مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین میں تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے کا براہِ راست اثر پٹرول پمپ پر فروخت ہونے والی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کے باعث صارفین میں مہنگائی کے ممکنہ دباؤ کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔