پوپ کی ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کی مذمت، فوری جنگ بندی کا مطالبہ

Attack Attack

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے ایران کے خلاف جاری امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی پائیدار استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا اور خطے میں امن کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کو ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہفتہ وار اینجلس دعا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی شدید تباہی اور تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دعا میں شریک ہیں جنہوں نے حالیہ حملوں میں اپنے عزیز و اقارب کو کھو دیا ہے، جبکہ اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فوجی مہم کے پہلے ہی دن ایک مبینہ امریکی ٹوماہاک کروز میزائل نے شجرہ طیبہ گرلز اسکول کو تباہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔ اس واقعے کو جاری تنازع کے المناک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ پوپ نے تنازع میں شامل تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر دشمنی ختم کریں اور مذاکرات کے راستے دوبارہ کھولیں۔

پوپ لیو چہاردہم نے لبنان کی صورتحال کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں لبنان پر فضائی حملے کیے۔ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں قتل کے ردعمل میں کیے تھے۔ پوپ نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کبھی بھی انصاف، استحکام اور امن کا راستہ نہیں بن سکتا جس کے لیے دنیا کے عوام منتظر ہیں۔ بعد ازاں اتوار کے روز روم کے ایک چرچ کے دورے کے دوران انہوں نے اس خیال کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ جنگ کے ذریعے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں اور اسے ایک مضحکہ خیز تصور قرار دیا۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کے اتحادیوں کی جانب سے تہران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے رواں ماہ کے آغاز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان نہیں، سوائے اس کے کہ وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے۔ ادھر ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک امریکہ اپنی فوجیں مشرقِ وسطیٰ سے واپس نہیں بلاتا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشاورتی بورڈ کے رکن محسن رضائی نے امریکی فوجی موجودگی کو گزشتہ پچاس برسوں سے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔