ایران جنگ کے بعد اختلافات شدت اختیار کرگئے، امریکا کا نیٹو سے علیحدگی پر غور

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد امریکا شمالی اوقیانوسی اتحاد (نیٹو) سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے، جو کئی دہائیوں سے مغربی دفاعی نظام کا اہم ستون رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ایک ایسا امتحان تھی جس میں نیٹو اتحادی ناکام رہے، کیونکہ دباؤ کے باوجود انہوں نے دفاعی اقدامات کے علاوہ براہِ راست فوجی تعاون فراہم نہیں کیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل Mark Rutte سے ملاقات کی۔ ترجمان کے مطابق صدر نیٹو کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور اس معاملے پر کھل کر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں مارک روٹے نے اس ملاقات کو “کھلی اور واضح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو ممالک نے رسد اور اڈوں کی فراہمی کے ذریعے تعاون کیا، تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ کے خدشات کو بھی تسلیم کیا۔

صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نیٹو سے متعلق متضاد بیانات دیتے رہے ہیں، کبھی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دی اور کبھی اس کی حمایت کا اعادہ کیا۔ 2025 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں نیٹو ارکان نے 2035 تک اپنے دفاعی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ تاہم بعض یورپی ممالک کے ساتھ اختلافات برقرار رہے، خاص طور پر اسپین کے ساتھ، جس نے اس ہدف سے استثنا مانگا۔ اسی طرح گرین لینڈ کے معاملے پر بھی امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت اسپین اور جرمنی جیسے ممالک سے اپنی فوجی موجودگی کم کرنے یا اڈے بند کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جسے ان ممالک کے رویے کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نیٹو سے علیحدگی کا معاملہ صدر ٹرمپ زیر غور لا چکے ہیں اور اس پر مزید بات چیت متوقع ہے۔