ماسکو (صداۓ روس)
روس کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شویگو نے خبردار کیا ہے کہ اگر فن لینڈ اور بالٹک ریاستوں نے یوکرینی ڈرونز کو دانستہ طور پر اپنے فضائی علاقے سے گزرنے دیا تو روس کو جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ شویگو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں یوکرین نے فن لینڈ، لیتھوانیا، لٹویا اور اسٹونیا کے فضائی علاقے سے گزر کر روس پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حملوں سے عام شہری متاثر ہو رہے ہیں اور سول انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یا تو مغربی فضائی دفاعی نظام ناکام ہو رہے ہیں یا پھر یہ چاروں ممالک دانستہ طور پر اپنا فضائی علاقہ یوکرین کو فراہم کر رہے ہیں، جس سے وہ روس کے خلاف جارحیت کے کھلے شریک جرم بن رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو روس کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت خود دفاع کا حق حاصل ہے۔
حالیہ ہفتوں میں کیئف نے روس پر ڈرون حملوں کی شدت بڑھا دی ہے، جنہیں ماسکو دہشت گرد حملے قرار دے رہا ہے۔ روسی فوج ایک رات میں سینکڑوں ڈرونز مار گراتی ہے۔
گذشتہ ماہ کے آخر میں کیئف نے بالٹک سمندر کے بندرگاہوں Ust-Luga اور Primorsk پر ڈرونز کا بڑا حملہ کیا تھا جس سے دونوں شہروں میں آگ لگ گئی۔
کریملن کے مشیر نکولائی پاتروشف نے بھی فن لینڈ اور بالٹک ریاستوں کو ان جرائم میں شریک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی ڈرون حملوں کے لیے قومی فضائی علاقہ فراہم کرنا نیٹو کی طرف سے روس پر براہ راست حملے میں حصہ داری ہوگی۔
مارچ کے اوائل سے متعدد یوکرینی ڈرون فن لینڈ اور تینوں بالٹک ریاستوں کے علاقے میں بھی گر چکے ہیں، تاہم ان چاروں ممالک نے کیئف کی فضائی خلاف ورزی کی مذمت نہیں کی۔
روس نے پہلے ہی لیتھوانیا، لٹویا اور اسٹونیا کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ یوکرین کو اپنے علاقے سے ڈرون بھیجنے کی اجازت نہ دیں۔