روس ایران یورینیم کی منتقلی کے لیے تیار

Iran Iran

ماسکو (صداۓ روس)

روس کی سرکاری جوہری کمپنی روس ایٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسی لیخاچوف نے کہا ہے کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ہٹانے میں مدد کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بات چیت میں تہران کا جوہری پروگرام سب سے بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا جوہری ڈھانچہ ختم کرے اور یورینیم حوالے کر دے، جسے ایران مسترد کر چکا ہے۔ ماسکو نے بار بار یہ پیشکش کی ہے کہ وہ اس یورینیم کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
لیکهاچوف نے روس ایٹم کی کارپوریٹ نیوز پیپر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “2015 میں ایران کی درخواست پر ہم پہلے ہی افزودہ یورینیم ہٹا چکے ہیں۔ آج بھی ہم اس مسئلے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اعتماد سب سے اہم ہے اور روس اس اعتماد کو بھی فراہم کر سکتا ہے۔
روس ایٹم ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کا پارٹنر اور آپریٹر بھی ہے اور وہ امریکہ-ایران مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ 400 کلوگرام سے زائد یورینیم موجود ہے جو ہتھیاروں کی سطح سے صرف تھوڑا نیچے ہے۔ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ یورینیم مکمل طور پر ہٹایا جائے، 20 سال تک افزودگی روکی جائے اور نطنز و فردو جیسی سہولیات ختم کی جائیں۔
ایران نے ان مطالبات کو زیادتی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ “کوئی بھی افزودہ مواد امریکہ نہیں بھیجا جائے گا۔ یہ ہمارے لیے غیر قابل قبول ہے۔”