اسلام آباد (صداۓ روس)
ہنزہ وادی نے تعلیم کے شعبے میں ایک قابلِ رشک ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ یہاں شرحِ تعلیم تقریباً 95 فیصد بتائی جاتی ہے، جبکہ پورے پاکستان کی اوسط شرحِ تعلیم 63 فیصد کے قریب ہے۔ ہنزہ کی اس کامیابی کے پیچھے متعدد اہم عوامل کارفرما ہیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شمولیت، سکولوں کی دیکھ بھال اور چلانے میں عوامی دلچسپی سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آگا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک نے بھی معیاری تعلیم کے پروگراموں اور اداروں کے ذریعے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ہنزہ میں سیکنڈری سطح تک تعلیم تقریباً سب کے لیے دستیاب اور اکثر مفت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ علاقے کی ثقافت لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کو بھی برابر اہمیت دیتی ہے، جس کی وجہ سے تعلیم میں صنفی مساوات تقریباً موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کی شمولیت، معیاری سرمایہ کاری اور مثبت ثقافتی اقدار تعلیم کے نظام کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ ہنزہ اسی کا ایک عمدہ مثال ہے۔