یورپی یونین کا یوکرین کے لیے 90 ارب یورو قرض کی منظوری

EU EU

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 2026–2027 کے دوران 90 ارب یورو (105 ارب ڈالر) کے ہنگامی قرض کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جبکہ روس کے خلاف پابندیوں کا بیسواں پیکج بھی منظور کر لیا گیا ہے۔ یورپی بلاک کی صدارت کے مطابق یہ فیصلہ رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے کیا گیا۔ یورپی کونسل کے صدر Antonio Costa نے اپنے بیان میں کہا کہ روس پر دباؤ بڑھانا یوکرین میں “منصفانہ اور دیرپا امن” کے حصول کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو یورپی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے سفیروں نے بدھ کے روز اس قرض اور پابندیوں کے پیکج کی منظوری دی، جو اس وقت ممکن ہوئی جب ہنگری نے اپنا ویٹو واپس لے لیا۔ ہنگری میں یورپی یونین کے حامی سیاستدان Peter Magyar کی انتخابی کامیابی کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔

یہ قرض کئی ماہ سے ہنگری اور یورپی یونین کے درمیان تنازع کا سبب بنا ہوا تھا۔ سابق ہنگری وزیراعظم Viktor Orban نے یوکرین کو فنڈز کی فراہمی اس وقت روک دی تھی جب جنوری میں درژبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل معطل ہوئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا۔ یورپی کمیشن کی صدر Ursula von der Leyen نے کہا ہے کہ یورپی یونین یوکرین کی مدد اور روس پر دباؤ دونوں محاذوں پر تیزی سے عملدرآمد کرے گی، جبکہ یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas نے کہا کہ یوکرین کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ضروری مدد فراہم کی جائے گی۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان Maria Zakharova نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ فنڈز یوکرین میں بدعنوانی کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov نے کہا کہ یورپی یونین اپنے ہی ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈال کر جنگ کو طول دے رہی ہے۔ یہ منظوری اس وقت سامنے آئی جب یوکرین نے ہنگری اور سلوواکیہ کے دباؤ پر درژبا پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کی، جسے پہلے مبینہ طور پر روسی حملوں کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔