ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہدایت دی ہے کہ انٹرنیٹ کی پابندیوں کے باوجود حکومتی سروسز، ادائیگی کے نظام، میڈیکل اپائنٹمنٹ بکنگ اور دیگر اہم سہولیات بلا تعطل جاری رہنی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات حکومتی اجلاس کے دوران کہی۔ صدر پوتن نے واضح کیا کہ بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی بندش بعض اوقات دہشت گردی کے خطرات کو روکنے کے لیے کی جاتی ہے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حساس آپریشنز کے دوران پیشگی معلومات عام نہیں کی جا سکتیں کیونکہ اس سے جرائم پیشہ عناصر اپنے منصوبے تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم کارروائی مکمل ہونے کے بعد عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کی محدود دستیابی کے باوجود بنیادی خدمات جاری رکھی جائیں اور متعلقہ اداروں کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ آرکٹک کے حوالے سے صدر پوتن نے کہا کہ روس Arctic میں تمام دلچسپی رکھنے والے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرکٹک خطہ عالمی ماحول، توانائی کے وسائل، تجارت اور لاجسٹکس کے استحکام کے لیے بڑھتی ہوئی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمالی سمندری راستہ عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایک محفوظ اور مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے، خصوصاً مشرق وسطیٰ سمیت مختلف تنازعات کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کے تناظر میں۔ صدر پوتن نے وزارتِ انصاف کو ہدایت دی کہ مفت قانونی معاونت اور شہری رجسٹریشن کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے۔ انہوں نے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیہی آبادی کو جدید ٹیکنالوجی سے محروم نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، خاص طور پر قدرتی آفات جیسے سیلاب کے دوران رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔