ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی جریدے The Atlantic نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جبکہ بھارت عالمی منظرنامے میں پیچھے رہتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا خود کو عالمی طاقت کے طور پر منوانے کا بیانیہ کمزور پڑ گیا ہے اور اس کی جگہ محض نمائشی سیاست رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے پر نئی دہلی میں خوشی کا اظہار کیا گیا، تاہم اس کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا کردار برقرار رکھا ہے اور مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع کی جا رہی ہے۔ جریدے کے مطابق داخلی سیاست اور میڈیا کنٹرول نے بھارت کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان سفارتی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم Narendra Modi گزشتہ ایک دہائی سے خود کو عالمی جنوب کا رہنما ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور عالمی معاشی بحران نے اس تاثر کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبانی نے بھارت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد بھارت کے سیاسی حلقوں میں مودی حکومت پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی کے رہنما Jairam Ramesh نے اسے مودی کی ذاتی نوعیت کی سفارتکاری کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا، جبکہ رکن پارلیمنٹ Asaduddin Owaisi نے کہا کہ اگر حکومتی غلطیاں نہ ہوتیں تو مذاکرات بھارت میں ہو سکتے تھے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، تاہم پاکستان نے ثالثی کی کوششیں جاری رکھی ہیں اور آئندہ مرحلے میں پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔