برطانوی طیاروں کو روسی ڈرونز مار گرانے کی اجازت، نیٹو رکن کا دعویٰ

Euro fighter Euro fighter

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

نیٹو کے رکن ملک رومانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانوی لڑاکا طیاروں کو روسی ڈرونز کو نشانہ بنانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی گئی۔ بیان کے مطابق برطانیہ کے رائل ایئر فورس کے یوروفائٹر ٹائفون طیارے فیتیشتی کے 86ویں ایئر بیس سے علی الصبح روانہ ہوئے اور انہوں نے یوکرین کے سرحدی علاقے کے قریب ایک ہدف کا ریڈار سے سراغ لگایا۔ یہ ہدف یوکرینی بندرگاہی شہر رینی کے قریب دیکھا گیا، جو دریائے ڈینیوب کے کنارے رومانیہ کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق پائلٹس کو ڈرونز کو نشانہ بنانے کی اجازت حاصل تھی، تاہم بعد ازاں واضح کیا گیا کہ طیارے نہ تو یوکرین کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور نہ ہی کسی ہدف پر فائرنگ کی گئی۔ حکام کے مطابق چونکہ مشتبہ ڈرون رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا، اس لیے اسے مار گرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور مشن نگرانی اور تیاری تک محدود رہا۔ دوسری جانب رومانیہ کے شہر گالاتی کے قریب ایک گرنے والی شے کے باعث ایک عمارت اور بجلی کے کھمبے کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

رومانیہ کے حکام نے روس پر الزام عائد کیا کہ اس کی کارروائیاں غیر ذمہ دارانہ ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف رومانیہ بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد دریائے ڈینیوب ایک اہم لاجسٹک راستہ بن چکا ہے، جہاں سے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سامان کی ترسیل جاری ہے، جبکہ روس مسلسل نیٹو کی اس مدد کو جنگ میں براہِ راست مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔