ماسکو (صداۓ روس)
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی روس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ صدر پوتن اور دیگر اعلیٰ روسی حکام سے مشرقِ وسطیٰ کی جاری صورتحال، امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔ ایرانی وفد کا طیارہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ پہنچا۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے مطابق عباس عراقچی روسی قیادت سے مذاکرات کی موجودہ صورتحال، جنگ بندی اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر مشاورت کریں گے۔ روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر پوتن کی ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات شیڈول میں شامل ہے۔ یہ دورہ عباس عراقچی کے علاقائی سفارتی دورے کا آخری مرحلہ ہے، جس کے دوران وہ پاکستان، عمان اور روس پہنچے ہیں۔ عباس عراقچی نے اپنے دورے کو شراکت دار ممالک کے ساتھ قریبی رابطوں کی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستان میں انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے قابلِ عمل فریم ورک پر گفتگو کی جبکہ یہ بھی کہا کہ ابھی دیکھنا ہوگا آیا امریکا واقعی سفارتکاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
عمان میں ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر بات چیت کی۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نمائندے ممکنہ مذاکرات کے لیے تیار تھے، تاہم تہران نے براہِ راست ملاقات سے انکار کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو ایک دستاویز بھجوائی جس میں تہران کی بنیادی شرائط اور سرخ لکیریں شامل تھیں، جن میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نکات نمایاں تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ برقرار ہے۔ ادھر آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔