کم جونگ اُن کا روس کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان

Kim Jong Un Kim Jong Un

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی پالیسیوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ ماسکو کے ساتھ فوجی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وفد، جس میں وزیر دفاع آندرے بیلوسوف بھی شامل تھے، شمالی کوریا پہنچا جہاں روس کے کرسک ریجن میں مارے گئے شمالی کوریائی فوجیوں کی یادگار کی تکمیل کی تقریب میں شرکت کی گئی۔ روسی وزیر دفاع نے کہا کہ شمالی کوریا کے حکام کے ساتھ فوجی تعاون کو مستحکم اور طویل المدتی بنیادوں پر استوار کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک رواں سال 2027 سے 2031 تک کے عرصے پر مشتمل پانچ سالہ دفاعی تعاون منصوبے پر دستخط کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے تعلقات یوکرین جنگ کے بعد بھی جاری رہیں گے اور ممکنہ طور پر ایک باقاعدہ ادارہ جاتی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کم جونگ اُن نے یادگار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والے شمالی کوریائی فوجیوں نے جارح قوتوں کو شکست دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے امریکا اور مغرب کے بالادستی کے عزائم ناکام ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا روس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے مفادات کے دفاع کی پالیسیوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے تقریباً 14 ہزار فوجی روسی افواج کی مدد کے لیے بھیجے تھے۔ جنوبی کوریا، یوکرین اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں بھاری جانی نقصان ہوا اور 6 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے۔ شمالی کوریائی میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے روسی پارلیمان کے اسپیکر ویاچسلاو وولودن سے بھی ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے کے مطابق دوطرفہ تعلقات مزید گہرے کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر پوتن نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ روس اور شمالی کوریا مشترکہ کوششوں سے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنائیں گے۔ اس موقع پر “ستارگانِ مادرِ وطن” کے عنوان سے ایک یادگاری کنسرٹ بھی منعقد کیا گیا جس میں ہلاک شمالی کوریائی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔