اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان کے لیے وسطی ایشیا سے زمینی رابطہ ایک اہم تزویراتی اور معاشی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے دو نمایاں راستے زیرِ بحث آتے ہیں: واخان کوریڈور اور چین کے ذریعے رابطہ۔ دونوں راستوں کی اپنی جغرافیائی اہمیت ہے، تاہم عملی طور پر ان کے امکانات مختلف ہیں۔ واخان کوریڈور افغانستان کے شمال مشرق میں واقع ایک تنگ پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے قریب لاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ ایک ممکنہ تجارتی راہداری سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ راستہ قابلِ عمل نہیں۔ افغانستان میں سکیورٹی خدشات، سیاسی غیر یقینی صورتحال، دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور بنیادی ڈھانچے کی کمی اس راستے کو باقاعدہ تجارت یا ٹرانسپورٹ کے لیے محدود بنا دیتی ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل قریب میں واخان کوریڈور کے فعال تجارتی راستہ بننے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس چین کے ذریعے پاکستان کا وسطی ایشیا سے رابطہ زیادہ حقیقت پسندانہ اور مضبوط آپشن سمجھا جاتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے، سڑکوں، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے وسیع منصوبوں پر مشتمل ہے۔ یہ راہداری پاکستان کو چین کے مغربی علاقوں سے جوڑتی ہے، جہاں سے آگے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن ہے۔
یہ راستہ نسبتاً محفوظ، بہتر انفراسٹرکچر کا حامل اور سیاسی حمایت یافتہ ہے، جس کے باعث تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین کے ذریعے رابطہ نہ صرف زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے بلکہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی کا بھی اہم حصہ بن چکا ہے۔ مجموعی طور پر اگرچہ واخان کوریڈور جغرافیائی لحاظ سے دلچسپ اور مختصر راستہ ہے، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک رسائی کا سب سے مؤثر، مستحکم اور عملی راستہ چین کے ذریعے ہی ہے۔