ماسکو (صداۓ روس)
روس کے دارالحکومت ماسکو اور گرد و نواح میں اپریل کے آخری دنوں میں غیر معمولی برفانی طوفان نے شہری زندگی کو متاثر کر دیا۔ ماسکو میں 12 سینٹی میٹر تک برف جمع ہوگئی، درجنوں درخت گر گئے جبکہ موسمی خطرے کی سطح بڑھا کر نارنجی کر دی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اس برفباری نے کئی تاریخی ریکارڈ قائم کیے۔ فوبوس موسمیاتی مرکز کے مطابق صرف ایک رات میں 16 ملی میٹر بارش اور برف ریکارڈ کی گئی، جو 1880 کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 27 اپریل کو 12 سینٹی میٹر برف جمع ہونا بھی ایک نیا ریکارڈ ہے۔ شدید موسم کے باعث ماسکو میں 110 سے زائد جبکہ ماسکو ریجن میں 75 درخت گرنے کی اطلاعات ہیں۔ مختلف علاقوں میں گاڑیوں کو نقصان پہنچا، ٹریفک جام ہوا اور بعض مقامات پر ٹرام سروس بھی متاثر ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق گرتے درختوں کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ خراب موسم اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ماسکو ریجن کے تقریباً 50 دیہات بجلی سے محروم ہو گئے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی تاریں گرنے سے نظام متاثر ہوا۔
ٹرانسپورٹ کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار رہا۔ متعدد ٹرینیں ڈھائی گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ سڑکوں پر گرے درختوں کی وجہ سے کئی بس روٹس عارضی طور پر بند کرنا پڑے۔ ماسکو ٹرانسپورٹ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ شام کے اوقات میں میٹرو استعمال کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا، وونکووو ایئرپورٹ سمیت کئی پروازیں تاخیر کا شکار رہیں جبکہ 50 سے زائد فلائٹس وقت پر روانہ نہ ہو سکیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پیدل چلتے وقت احتیاط کریں، درختوں اور کمزور ڈھانچوں کے قریب کھڑے نہ ہوں، جبکہ جن ڈرائیورز نے موسمِ سرما کے ٹائر تبدیل کر دیے ہیں وہ گاڑی چلانے سے گریز کریں۔