اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان میں پانی اور بجلی کے کئی بڑے منصوبوں پر ایک ساتھ کام جاری ہے، جن میں داسو، مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم نمایاں ہیں۔ یہ منصوبے ملک کے آبی ذخائر بڑھانے، سستی بجلی پیدا کرنے اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں بڑے ڈیم مجموعی طور پر تقریباً 2.6 کھرب روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد پانی ذخیرہ کرنا، ماحول دوست پن بجلی پیدا کرنا اور ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے مکمل ہونے کے بعد ہزاروں میگاواٹ اضافی بجلی قومی نظام میں شامل ہو گی، جس سے مہنگے ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کی قیمتوں میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ان ڈیموں سے سیلابی صورتحال پر قابو پانے، زرعی شعبے کو مسلسل پانی کی فراہمی، نہری نظام کی بہتری اور خشک سالی کے خطرات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہو رہے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو سہارا مل رہا ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ داسو، مہمند اور دیامر بھاشا جیسے منصوبے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی پانی اور توانائی کی ضروریات کو طویل مدت تک بہتر انداز میں پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔