ماسکو (صداۓ روس)
روس کے افریقہ کور (Africa Corps) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مغربی حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں کے خلاف مالی میں بڑے پیمانے پر فضائی اور توپخانے کے حملے کیے ہیں، جن میں عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ افریقہ کور کی جانب سے جاری ویڈیوز میں شدت پسندوں کے قافلوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کا آغاز اس وقت ہوا جب القاعدہ سے منسلک تنظیم جماعت نصرت الاسلام والمسلمین اور آزاواد لبریشن فرنٹ نے بیک وقت ملک کے مختلف شہروں پر حملے کیے، جن میں دارالحکومت باماکو سمیت کئی اہم علاقے شامل تھے۔ روسی یونٹ کے مطابق ان حملوں کا مقصد مبینہ طور پر حکومت کا تختہ الٹنا تھا، تاہم روسی معاونت سے اس کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ افریقہ کور نے تقریباً 2000 کلومیٹر طویل محاذ پر پوزیشنز سنبھالیں اور فضائی مدد فراہم کی، جس سے صدارتی محل سمیت اہم تنصیبات پر قبضہ روک دیا گیا۔
افریقہ کور نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ سو سے زائد گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ تنظیم کے مطابق حملہ آوروں کی مجموعی تعداد 10 سے 12 ہزار کے درمیان تھی، جنہیں مبینہ طور پر یوکرینی اور یورپی کرائے کے جنگجوؤں کی حمایت حاصل تھی۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ شدت پسندوں نے امریکی ساختہ اسٹنگر اور فرانسیسی ساختہ مسٹرال جیسے جدید ہتھیار استعمال کیے۔
دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر امکان ظاہر کیا ہے کہ حملہ آوروں کی تربیت میں مغربی سکیورٹی اداروں کا کردار ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی فرانس پر خطے میں مداخلت اور غیر پسندیدہ حکومتوں کو ہٹانے کی کوششوں کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
افریقہ کور، جو 2023 میں قائم کیا گیا تھا، مالی، وسطی افریقی جمہوریہ اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، مقامی افواج کی تربیت اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔