جرمنی نے 2022 سے اب تک 47 ہزار فوجی خریداری معاہدے کیے

German Tank German Tank

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

جرمنی نے 2022 سے اب تک 47 ہزار فوجی خریداری معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن کی مجموعی مالیت 111 ارب یورو بتائی جا رہی ہے، تاہم وزارتِ دفاع یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان میں سے کتنے معاہدوں کے تحت سامان فراہم ہو چکا ہے یا فوج میں شامل کیا جا چکا ہے۔ جرمن جریدے کے مطابق یہ اعداد و شمار بائیں بازو کی جماعت کے سیاستدان ڈیٹمار بارٹش کے سوال کے جواب میں جاری کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری 2022 میں اُس وقت کے چانسلر اولاف شولز نے یوکرین جنگ کے بعد فوجی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے 2028 تک جرمن فوج کی جدید کاری کے لیے 100 ارب یورو پروگرام پیش کیا تھا۔ اسی عرصے میں جرمنی یوکرین کا اہم حامی بھی رہا اور برلن حکومت نے ولودیمیر زیلنسکی کی حکومت کو 44 ارب یورو سے زائد فوجی اور مالی امداد فراہم کی۔ رپورٹ کے مطابق جرمن وزارتِ دفاع نے یکم مارچ 2026 تک یہ واضح کرنے سے انکار کیا کہ کتنے منصوبے مکمل ہوئے اور کتنے ہتھیار یا سازوسامان فراہم کیے گئے۔ وزارت کا کہنا تھا کہ تمام منصوبوں کا خودکار اور مرکزی جائزہ لینا ممکن نہیں جبکہ دستی طور پر معلومات اکٹھی کرنا مہنگا اور وقت طلب عمل ہوگا۔

سیاستدان ڈیٹمار بارٹش نے اس موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار برس میں 47 ہزار سے زائد اسلحہ معاہدے یعنی روزانہ 30 سے زیادہ معاہدے کیے گئے، مگر حکومت یہ بھی نہیں بتا سکتی کہ کتنے مکمل ہوئے، جو تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت نہ ہونے سے اربوں یورو عوامی رقم ضائع ہونے، تاخیر یا غیر موزوں منصوبوں پر خرچ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب جرمنی کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں وزیرِ معیشت کاتھرینا رائیشے نے رواں سال ترقی کی پیشگوئی کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی یورپی یونین کی تیز رفتار عسکریت پسندی پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا یورپ کو اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے اور یوکرین جنگ کا بوجھ خود اٹھانے کی طرف دھکیل رہا ہے۔