ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
لبنان کی زخمی صحافی زینب فرج نے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والی اپنی ساتھی امل خلیل کے آخری لمحات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امل نے چیخ کر کہا تھا، “زینب، میں جل رہی ہوں۔” لبنانی میڈیا کو اسپتال کے بستر سے دیے گئے انٹرویو میں زینب فرج آبدیدہ ہو گئیں اور حملے کی ہولناک تفصیلات بیان کیں۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز امل خلیل اور زینب فرج جنوبی لبنان کے گاؤں التیری میں گاڑی پر سفر کر رہی تھیں کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے ان کے آگے چلنے والی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ زینب فرج کے مطابق اچانک بغیر کسی آواز کے میزائل آیا اور سامنے والی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ امل نے چیخ ماری اور گاڑی سڑک کنارے موڑ دی۔ دونوں گاڑی سے نکل کر ایک گیراج کے دروازے کے نیچے پناہ لینے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران اسرائیلی طیارے اور ڈرون اوپر منڈلا رہے تھے کہ دوسرا میزائل ان کی گاڑی پر آ گرا۔ شیل کے ٹکڑوں سے امل زخمی ہوئیں جبکہ گاڑی میں آگ لگ گئی۔ امل نے زینب کو بچاتے ہوئے خود آگ کی لپیٹ برداشت کی۔
زینب کے مطابق امل چیخ کر بولیں، “زینب، میں جل رہی ہوں!” میں نے ان کی جیکٹ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا مگر میں خود بھی جلنے لگی۔ پھر میں نے گیراج کا دروازہ توڑا اور ہم دونوں رینگتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔ بعد ازاں دونوں ایک غسل خانے میں چھپ گئیں۔ زینب نے کہا کہ ہم امید کھو چکے تھے۔ پھر میں اچانک جاگی تو ایک اور میزائل سیدھا ہماری طرف آ رہا تھا۔ آخری لمحہ جو مجھے یاد ہے وہ امل کو دیکھنے کا تھا، پھر وہ دنیا سے جا چکی تھیں۔ ساتھی صحافیوں کے مطابق دونوں نے واضح طور پر پریس جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ امدادی کارکنوں نے شدید زخمی زینب کو ملبے سے نکال لیا، تاہم اسرائیلی فائرنگ کے باعث امل تک رسائی میں تاخیر ہوئی اور ان کی لاش کئی گھنٹے بعد نکالی گئی۔ یہ حملہ حالیہ جنگ بندی کے باوجود کیا گیا۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل پر صحافیوں کو دانستہ نشانہ بنانے کا الزام لگایا جبکہ وزیر اعظم نواف سلام نے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ اسرائیلی فوج نے صحافیوں یا امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ایران پر امریکا اسرائیل حملوں کے بعد دوبارہ بھڑکنے والی کشیدگی کے دوران لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں یہ نویں صحافی کی ہلاکت ہے۔