روسی سپر یاٹ آبنائے ہرمز عبور کرگئی، ناکہ بندی کے باوجود گزرنے پر سوالات

Russian yacht Russian yacht

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

دنیا کی بڑی سپر یاٹس میں شمار ہونے والی روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسوب لگژری یاٹ نورڈ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے باآسانی گزر کر عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق 465 فٹ طویل یہ یاٹ دبئی سے روانہ ہوئی اور اتوار کی صبح مسقط پہنچی۔ بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق نورڈ ان چند جہازوں میں شامل تھی جو موجودہ کشیدہ صورتحال اور ناکہ بندی کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سپر یاٹ تقریباً 50 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی بتائی جاتی ہے، جس میں 20 لگژری کیبنز، سوئمنگ پول، ہیلی پیڈ اور آبدوز جیسی سہولیات موجود ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ یاٹ نے ایران کے مخصوص بحری راستے کو استعمال کیا، جو ایرانی ساحل کے قریب واقع ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یاٹ کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت کیسے ملی، آیا اس نے کسی قسم کی فیس ادا کی یا خصوصی اجازت حاصل کی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسے امریکی بحری نگرانی کے باوجود راستہ ملا، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسی روز دو دیگر پابندی زدہ جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں ایک ایرانی ڈرونز کی مبینہ فروخت سے منسلک بتایا گیا جبکہ دوسرا ایران کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ روس اور ایران کے تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، دفاع اور جوہری تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ الیکسی مورداشوف روس کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان پر امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کی پابندیاں عائد ہیں۔