ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یوکرین کو مستقبل کے کسی امن معاہدے میں روس کے ساتھ علاقائی رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں تاکہ یورپی یونین میں شمولیت کی امید برقرار رکھی جا سکے۔ جرمن میڈیا کے مطابق مرز نے ایک خطاب میں کہا کہ امید ہے آخرکار روس کے ساتھ امن معاہدہ ہوگا، اور ممکن ہے اس کے بعد یوکرین کا کچھ علاقہ یوکرین کے پاس نہ رہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے کو عوامی حمایت دلانے کے لیے یوکرینی قیادت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ اس کے بدلے یورپ کا راستہ کھل گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت میں یورپی یونین کیف کی رکنیت کے لیے اقدامات شروع کر سکتی ہے، تاہم یوکرینی صدر زیلنسکی کی جانب سے دی گئی ٹائم لائن حقیقت پسندانہ نہیں۔ مرز کے مطابق یکم جنوری 2027 تک یوکرین کی شمولیت ممکن نہیں، جبکہ 2028 بھی غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ یورپی یونین یوکرین کی رکنیت کے لیے واضح تاریخ دے، تاہم وہ علاقائی نقصان تسلیم کرنے کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔
یورپی یونین کے قواعد کے مطابق کسی بھی امیدوار ملک کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات حل ہونا ضروری ہوتے ہیں، جس کے باعث یوکرین کی رکنیت کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
روس کا مؤقف ہے کہ دیرپا امن کے لیے یوکرینی افواج کو متنازع علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا، جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ اسے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت پر اصولی اعتراض نہیں، مگر یورپی بلاک کی فوجی سمت پر تحفظات موجود ہیں۔