ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن حکومت کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “کچی دھمکیوں کی پالیسی” حد تک پہنچ چکی ہے اور وہ واشنگٹن سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی توقع رکھتی ہے۔ ایک اعلیٰ جرمن اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کو بتایا کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کے ممکنہ جزوی انخلاء کے بارے میں ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: “ٹرمپ کی کچی دھمکیوں کی پالیسی اب حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی باتوں کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ جرمنی سے امریکی فوجیوں کا انخلاء خود امریکہ کو شدید کمزور کر دے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ واشنگٹن میں بالغ افراد کب میدان میں آئیں گے۔” رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بیان نے پینٹاگون کو حیران کر دیا اور دفاعی حکام کو شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے فوری طور پر یہ جاننے کی کوشش شروع کر دی کہ صدر کا یہ اعلان کتنا سنجیدہ ہے۔
تین امریکی فوجی حکام نے پولیٹیکو کو بتایا کہ معاملہ جرمنی سے سو سے لے کر ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلاء کے نئے دباؤ سے متعلق ہے۔ ایک کانگریسی معاون نے بتایا کہ پینٹاگون اس کا بالکل توقع نہیں کر رہا تھا اور کوئی ڈرا ڈاؤن پلان نہیں بنایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ “ہمیں انہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ ان کی پہلی انتظامیہ (2017-2021) کے دوران بھی وہ اس معاملے پر سنجیدہ تھے۔” اس حوالے سے 2020 میں جرمنی سے 11,900 امریکی فوجیوں کے انخلاء کا ذکر کیا گیا۔
دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ محکمہ “ہر ممکن منظرنامے کا منصوبہ بناتا ہے” اور “کمانڈر ان چیف کے احکامات کو مطلوبہ وقت اور مقام پر نافذ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔” یاد رہے کہ 29 اپریل کو صدر ٹرمپ نے جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ اگلے دن صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹلی اور ہسپانویہ میں بھی امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے۔