جاپانی کار ساز ادارے ہونڈا کو 67 سال بعد پہلی بار خسارہ

Honda Honda

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

جاپانی کار ساز کمپنی ہونڈا نے 1957 کے بعد پہلی بار آپریٹنگ نقصان کا سامنا کیا ہے۔ کمپنی نے الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی طلب میں زبردست کمی، امریکی پالیسیوں اور چینی مقابلے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ہونڈا نے 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے 424 ارب ین (تقریباً 2.7 ارب ڈالر) کا خالص نقصان ریکارڈ کیا۔ اس نقصان کی بڑی وجہ ای وی بزنس میں بھاری رائٹ ڈاؤن ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، خاص طور پر ای وی خریداری پر ٹیکس مراعات ختم کرنے اور درآمد شدہ کاروں پر ٹیرف لگانے سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ہونڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر توشہیرو میبے نے اعلان کیا کہ کمپنی اب مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں پر انحصار کرنے کی بجائے ہائبرڈ اور روایتی پٹرول انجن والی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔

Honda

اس فیصلے کے تحت ہونڈا نے کینیڈا کے اونٹاریو میں منصوبہ بند ای وی پروڈکشن پروجیکٹ بھی منسوخ کر دیا ہے، جس پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے افسوس کا اظہار کیا۔ یہ مشکل جاپانی آٹو انڈسٹری کے دیگر بڑے ناموں کو بھی درپیش ہے۔ ٹویوٹا نے رواں مالی سال میں نیٹ انکم میں 22 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ نسان نے 3.4 ارب ڈالر کے نقصان کے ساتھ متعدد فیکٹریاں بند کرنے اور ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ای وی مارکیٹ میں سست روی، جیو پولیٹیکل تناؤ، روس یوکرین جنگ کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھنے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے آٹو انڈسٹری پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔