
اشتیاق ہمدانی —
رشین فیڈریشن کے صدر کے ماتحت بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لوووا-بیلووا کی جانب سے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران بچوں کے تحفظ، متاثرہ خاندانوں کی مدد، نفسیاتی بحالی، انسانی امداد، یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور بچھڑے ہوئے بچوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملانے کے حوالے سے چوتھا جامع بلیٹن جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ بلیٹن 7 مئی 2026 کو شائع ہوا، جس میں خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک کیے گئے اقدامات، عملی نتائج، انسانی مثالوں اور بین الاقوامی تعاون کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگی حالات سے متاثر ہونے والے بچوں اور خاندانوں کی مدد روسی بچوں کے حقوق کے ادارے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ ماریا لوووا-بیلووا نے اپنے تعارفی پیغام میں واضح کیا کہ یہ کام خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے مسلسل جاری ہے اور اس کا بنیادی مقصد ان بچوں تک پہنچنا ہے جو جنگ، نقل مکانی، خاندانی جدائی، دستاویزات کی کمی، زخمی ہونے، نفسیاتی دباؤ یا سماجی عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ بلیٹن کے مطابق بچوں کے حقوق کے ادارے نے اس پورے عمل کو صرف انتظامی یا قانونی کام کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی مشن کے طور پر لیا ہے۔
ماریا لوووا-بیلووا کے مطابق وہ اب تک ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کے تیرہ، لوگانسک عوامی جمہوریہ کے نو، جبکہ زاپوروزھے اور خیرسون علاقوں کے پانچ پانچ ورکنگ دورے کر چکی ہیں۔ ان دوروں کے دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں، بچوں کے اداروں، اسکولوں، اسپتالوں، عارضی رہائشی مراکز اور سماجی بحالی کے مراکز کا معائنہ کیا۔ مقامی حکام کے ساتھ مل کر بچوں کے تحفظ، تعلیم، علاج، نفسیاتی مدد اور خاندانی بحالی کے مسائل پر عملی فیصلے کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر دورے کا مقصد صرف صورتحال کا جائزہ لینا نہیں بلکہ موقع پر ہی بچوں اور خاندانوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔

بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ روس میں بچوں کے حقوق کے کمشنر کا ادارہ ایک باقاعدہ قانونی اور ریاستی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کے تحفظ، ان کے قانونی مفادات کی بحالی، قانون سازی کی بہتری، علاقائی کمشنرز کے ساتھ رابطہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا۔ آج روس کے 89 علاقوں میں بچوں کے حقوق کے کمشنرز یا علاقائی سربراہان کے مشیر کام کر رہے ہیں۔ یہ پورا نیٹ ورک جنگ سے متاثرہ بچوں کی مدد، عارضی رہائشی مراکز میں خاندانوں کی نگرانی، زخمی بچوں کے علاج، تعلیمی مسائل کے حل اور انسانی امداد کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خصوصی فوجی آپریشن کے دوران کمشنر کے دفتر کی بنیادی ذمہ داریوں میں بچوں کی سلامتی، خاندانوں کی مدد، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی، سماجی تحفظ، نفسیاتی بحالی، انسانی امداد، یتیم بچوں کی دیکھ بھال، سرحدی علاقوں کے بچوں کے مسائل اور خاندانوں سے بچھڑے بچوں کو دوبارہ ملانا شامل ہے۔ بلیٹن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کام کے بنیادی اصولوں میں بچوں اور خاندان کے مفاد کو سب سے مقدم رکھنا، فوری مدد فراہم کرنا، خاندانی ماحول کو بچے کی نشوونما کے لیے بنیادی شرط سمجھنا، شفافیت اور سرگرمیوں کا مکمل انسانی کردار شامل ہے۔
رپورٹ کا سب سے اہم حصہ ان بچوں سے متعلق ہے جو جنگ، نقل مکانی، سفری رکاوٹوں، دستاویزات کی کمی یا خاندانی حالات کے باعث اپنے والدین یا قریبی رشتہ داروں سے جدا ہو گئے تھے۔ بلیٹن کے مطابق روسی بچوں کے حقوق کے کمشنر کے دفتر کی براہِ راست شرکت سے 30 بچوں کو روس میں 22 خاندانوں کے ساتھ دوبارہ ملایا گیا، جبکہ 141 بچوں کو یوکرین اور تیسرے ممالک میں موجود 114 خاندانوں سے ملایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ان بچوں کے علاوہ ہیں جنہیں 2022 کے موسم خزاں میں والدین نے اپنی مرضی سے جنوبی روس کے صحت افزا مراکز اور کیمپوں میں آرام کے لیے بھیجا تھا اور بعد میں جنگی حالات کی وجہ سے وقت پر واپس نہ لا سکے۔
خاندانوں سے دوبارہ ملاپ کا عمل رپورٹ میں نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بلیٹن کے مطابق ہر کیس میں پہلے بچے اور درخواست دینے والے شخص کی مکمل معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ پھر بچے کے ممکنہ مقام کا تعین کیا جاتا ہے، متعلقہ روسی اداروں کو درخواستیں بھیجی جاتی ہیں، علاقائی حکام بچے سے ملاقات کرتے ہیں، دستاویزات کی جانچ ہوتی ہے، یوکرینی فریق یا دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور پھر محفوظ راستے، سفری انتظامات اور سرحدی مراحل طے کیے جاتے ہیں۔ کئی معاملات میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی، قطر، رضاکار تنظیموں اور دیگر ثالثوں نے بھی تعاون فراہم کیا۔
ماریا لوووا-بیلووا کے مطابق خاندانوں سے دوبارہ ملاپ کا کام دونوں سمتوں میں کیا گیا۔ یعنی اگر کوئی بچہ یوکرین یا تیسرے ملک میں تھا اور اس کے رشتہ دار روس میں موجود تھے تو اسے روس میں خاندان سے ملانے کی کوشش کی گئی، اور اگر کوئی بچہ روسی علاقے میں تھا جبکہ اس کے والدین یا قریبی رشتہ دار یوکرین یا کسی تیسرے ملک میں موجود تھے تو اسے وہاں منتقل کرنے میں مدد دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل کا بنیادی اصول یہ تھا کہ بچے کی خواہش، اس کے بہترین مفاد، قانونی حیثیت اور خاندانی تعلقات کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کی مشکلات صرف سرحدی یا سفری نہیں تھیں بلکہ کئی بار دستاویزات نہ ہونے، مالی وسائل کی کمی، والدین کی بیماری، بچوں کی صحت، قانونی سرپرستی، مختلف ممالک میں موجود خاندانوں اور بعض اوقات خاندانی تنازعات کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہو جاتے تھے۔ ایسے حالات میں کمشنر کے دفتر نے نہ صرف دستاویزات کے ترجمے اور نوٹری تصدیق میں مدد دی بلکہ سفر، ہوٹل، خوراک، موبائل رابطہ، قانونی مشاورت اور بعض کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ تک کا انتظام کیا۔
رپورٹ میں کئی انسانی مثالیں بھی شامل ہیں۔ ایک کیس میں ایک ماں اپنی بیٹی سے دوبارہ ملی جو یوکرین کے ایک سماجی بحالی مرکز میں رہ رہی تھی۔ ایک اور معاملے میں دو بھائیوں اور ایک بہن کو یوکرین سے روس میں والدین کے پاس لایا گیا؛ بچوں کے پاس ضروری دستاویزات نہیں تھیں، اس لیے یہ عمل کئی مرحلوں کے بعد مکمل ہوا۔ ایک 14 سالہ لڑکے کو بھی روس میں اس کی دادی اور بڑی بہن سے ملایا گیا، جنہیں وہ چھ سال سے نہیں دیکھ سکا تھا۔ ایک اور خاندان کورونا پابندیوں اور پھر جنگی صورتحال کے باعث برسوں تک جدا رہا، مگر بعد ازاں کمشنر کے دفتر کی کوششوں سے دوبارہ مل گیا۔
رپورٹ میں یوکرین اور دیگر ممالک میں خاندانوں سے دوبارہ ملائے گئے بچوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ ایک واقعے میں یوکرین کی ایک خاتون اپنی دو چھوٹی بہنوں سے ملی جو روس کے ایک سماجی بحالی مرکز میں رہ رہی تھیں۔ ایک اور کیس میں پانچ بچوں کی ماں، جو کام کے لیے باہر گئی تھی، بعد میں اپنے بچوں سے دوبارہ ملی۔ ایک بچی کو روس سے یوکرین واپس بھیجنے کے عمل میں اس کی دادی نے سفر کیا، جبکہ کمشنر کے دفتر نے ہوٹل، ٹرانسفر، دستاویزات اور سرحدی انتظامات میں مدد فراہم کی۔ اس طرح کئی خاندان طویل جدائی کے بعد دوبارہ اکٹھے ہوئے۔
بلیٹن میں خیرسون کے الیشکنسکی بچوں کے گھر کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ نومبر 2022 میں یہ ادارہ فرنٹ لائن کے قریب آ گیا تھا، جس کے بعد شدید بیماریوں میں مبتلا 52 بچوں کو عارضی طور پر کریمیا کے محفوظ علاقے میں منتقل کیا گیا۔ وہاں ان بچوں کو طبی سہولیات، رہائش، خوراک، بحالی اور خصوصی نگہداشت فراہم کی گئی۔ بعد ازاں ان بچوں میں سے کئی کو ان کے قریبی رشتہ داروں سے ملایا گیا۔ ایک بچے کو اس کی نانی سے ملانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا کیونکہ دستاویزات سے رشتہ ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ رشتہ ثابت ہونے کے بعد بچے کو نانی کے حوالے کیا گیا۔
اسی طرح خیرسون کے بچوں کے ایک اور ادارے سے منتقل کیے گئے بچوں کا بھی ذکر ہے، جو کریمیا کے خصوصی بچوں کے گھر “یولوچکا” میں رہ رہے تھے۔ ان بچوں میں سے کئی کو بعد میں ان کی ماؤں، باپ، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں سے ملایا گیا۔ بعض بچوں کی صحت اتنی نازک تھی کہ انہیں ایمبولینس کے ذریعے سرحد تک پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان معاملات میں طبی عملے، سماجی کارکنوں، علاقائی کمشنرز اور بین الاقوامی اداروں نے مل کر کام کیا۔
رپورٹ میں عارضی رہائشی مراکز میں مقیم خاندانوں کی صورتحال پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ جنگی علاقوں اور سرحدی خطوں سے آنے والے خاندانوں کو روس کے مختلف علاقوں میں عارضی رہائش دی گئی۔ ان مراکز میں بچوں اور والدین کو طبی، نفسیاتی، قانونی، مالی اور تعلیمی مدد فراہم کی گئی۔ بچوں کے لیے اسکولوں میں داخلے، دستاویزات کی تیاری، سوشل پیمنٹس، روزگار کے مسائل، کپڑوں، خوراک، حفظانِ صحت کے سامان اور تعلیمی اشیاء کے انتظامات کیے گئے۔
بیلگورود، بریانسک، لوگانسک، کورسک، زاپوروزھے، خیرسون اور دیگر علاقوں کے کمشنرز نے بتایا کہ شروع میں خاندانوں کی سب سے بڑی ضرورت انخلا، جان بچانے اور فوری پناہ کی تھی، لیکن 2026 تک درخواستوں کی نوعیت بدل گئی۔ اب لوگ زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کی بحالی، گھروں کی مرمت، معاوضوں، بچوں کے آن لائن تعلیم کے نظام، انٹرنیٹ، کمپیوٹرز اور نفسیاتی بحالی سے متعلق مدد مانگ رہے ہیں۔ خاص طور پر 10 سے 15 کلومیٹر کے سرحدی علاقوں میں بچوں کے لیے باقاعدہ اسکول جانا ممکن نہیں، اس لیے فاصلاتی تعلیم ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
زخمی بچوں کے لیے مالی مدد بھی رپورٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ بلیٹن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماریا لوووا-بیلووا کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے ان بچوں کے لیے یک وقتی مالی امداد کی منظوری دی جو یوکرینی حملوں کے نتیجے میں زخمی، معذور یا صدمے کا شکار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 682 بچوں کو اس امداد سے فائدہ پہنچا ہے۔ کمشنر کا دفتر سوشل فنڈ آف روس کے ساتھ مل کر اس بات کی نگرانی کر رہا ہے کہ زخمی بچوں کے والدین یا قانونی نمائندوں کو یہ رقم بروقت مل سکے۔
رپورٹ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر اقدامات کا بھی ذکر ہے۔ “بچوں کے ہاتھوں میں” کے عنوان سے شروع کی گئی مہم کے تحت متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو خوراک، بچوں کی غذائی اشیاء، کپڑے، بستر، حفظانِ صحت کا سامان، تعلیمی اشیاء اور کھلونے فراہم کیے گئے۔ ایک مثال میں بتایا گیا کہ جون 2023 میں شبیخینو شہری ضلع کے 135 بچوں کے لیے 700 کلوگرام سے زائد امدادی سامان بھیجا گیا، جو یوکرینی گولہ باری کے باعث اپنے خاندانوں کے ساتھ بیلگورود کے ایک عارضی رہائشی مرکز میں مقیم تھے۔
رپورٹ کا ایک وسیع حصہ نفسیاتی بحالی سے متعلق ہے۔ جنگی حالات سے گزرنے والے بچوں میں خوف، ذہنی دباؤ، اضطراب، جارحیت، تنہائی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کمشنر کے دفتر نے ماہرینِ نفسیات، اساتذہ، مشیروں اور سماجی کارکنوں کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے۔ سینٹ پیٹرزبرگ اسٹیٹ یونیورسٹی، ماسکو اسٹیٹ سائیکالوجیکل اینڈ پیڈاگوجیکل یونیورسٹی اور خیراتی اداروں کے تعاون سے ایسے تربیتی کورسز تیار کیے گئے جو جنگ سے متاثرہ بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ماہرین کے لیے مخصوص ہیں۔
“پوسلے زافترا” پروگرام کو رپورٹ میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ یہ پروگرام جنگی علاقوں، سرحدی خطوں اور خصوصی فوجی آپریشن میں شریک افراد کے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے بنایا گیا۔ 2022 سے اب تک اس پروگرام کے تحت 34 کیمپ منعقد ہوئے جن میں 4800 سے زائد نوجوانوں اور ان کے خاندانوں نے حصہ لیا۔ ان کیمپوں میں نفسیاتی مشاورت، گروپ سیشنز، پیشہ ورانہ رہنمائی، کھیل، ماسٹر کلاسز، ثقافتی دورے، روس کی تاریخ اور ثقافت سے آگاہی، اور مستقبل کی منصوبہ بندی شامل تھی۔
رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں 1938 گروپ نفسیاتی سیشنز اور 6234 انفرادی مشاورتی نشستیں منعقد ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق ان پروگراموں سے بچوں کی نفسیاتی حالت میں بہتری آئی، ان میں خود اعتمادی پیدا ہوئی، اضطراب کم ہوا اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا شروع کیا۔ کچھ بچوں نے کہا کہ انہوں نے پہلی بار کسی ماہرِ نفسیات سے کھل کر بات کی، جبکہ کچھ نے ان کیمپوں کو ایک نئے خاندان جیسا تجربہ قرار دیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان پروگراموں میں کوئی فوجی تربیت شامل نہیں تھی بلکہ تمام سرگرمیاں تعلیمی، نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی نوعیت کی تھیں۔
بلیٹن میں یتیم اور والدین کی سرپرستی سے محروم بچوں کے معاملے پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ فروری 2022 میں ڈونیٹسک اور لوگانسک کے حکام نے روس سے شہری آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی۔ ان میں یتیم خانوں اور سماجی اداروں کے تقریباً دو ہزار بچے بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان بچوں کی قسمت معلوم ہے اور علاقائی کمشنرز ان کے حقوق کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈونیٹسک کے کچھ بچوں کو روسی خاندانوں کی سرپرستی میں دیا گیا، جبکہ لوگانسک کے بچے اپنے اداروں میں واپس چلے گئے اور بعد میں ان میں سے بعض کو روسی خاندانوں کی کفالت میں رکھا گیا۔
اپریل سے اکتوبر 2022 کے دوران ڈونیٹسک اور لوگانسک سے تعلق رکھنے والے 380 یتیم یا والدین کی سرپرستی سے محروم بچوں کو روس کے 19 علاقوں میں رضاعی یا سرپرست خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان میں زیادہ تر بچے بہن بھائیوں کے گروپوں میں تھے، بعض کی صحت کے مسائل تھے اور ان کے لیے خاندان تلاش کرنا عام حالات میں بھی مشکل ہوتا ہے۔ روسی حکام کے مطابق بچوں کو اداروں یا عارضی رہائشی مراکز کے بجائے خاندانی ماحول دینا زیادہ بہتر سمجھا گیا۔
رپورٹ میں خاص طور پر یہ وضاحت بھی کی گئی کہ ان بچوں کو بڑے پیمانے پر گود نہیں دیا گیا بلکہ زیادہ تر معاملات میں سرپرستی یا کفالت کا انتظام کیا گیا، تاکہ اگر ان کے حقیقی رشتہ دار سامنے آئیں تو بچوں کو دوبارہ خاندانوں سے ملایا جا سکے۔ روسی قانون کے مطابق سرپرستی ایک عارضی اور زیادہ لچکدار نظام ہے، جبکہ گود لینا عدالتی عمل کے ذریعے مستقل خاندانی تعلق قائم کرتا ہے۔ بلیٹن کے مطابق اپریل سے اکتوبر 2022 کے دوران ڈونیٹسک اور لوگانسک کے بچوں کے لیے گود لینے کا طریقہ استعمال نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں ماریوپول سے ملنے والے بے سہارا بچوں کا بھی ذکر ہے۔ 2022 کے موسم بہار میں روسی فوجیوں نے ماریوپول میں ایسے بچوں کو پایا جو بغیر نگرانی کے تھے۔ انہیں سماجی خدمات کے حوالے کیا گیا اور بعد میں ڈونیٹسک کے بچوں کے سماجی مرکز میں رکھا گیا۔ ان میں سے کچھ بچوں کو بعد میں والد یا رشتہ داروں سے ملایا گیا، جبکہ کچھ کو عارضی سرپرستی میں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ہر بچے سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا چاہتا ہے، اور جن بچوں نے واپس جانے کی خواہش ظاہر کی، ان کے لیے مدد فراہم کی گئی۔
اسی طرح کوپیانسک کی ایک اصلاحی اسکول-بورڈنگ سے 13 بچوں کو گولہ باری سے نکالا گیا۔ ان بچوں کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں تھیں، صرف تین بچوں کے کاغذات موجود تھے جبکہ باقی معلومات بچوں کے بیانات کی بنیاد پر لکھی گئیں۔ بعد میں روسی اور علاقائی اداروں نے ان کے والدین اور قانونی نمائندوں کی تلاش شروع کی۔ رپورٹ کے مطابق بالآخر ان تمام بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملا دیا گیا۔
بلیٹن میں بچوں کی تعلیم پر بھی اہم گفتگو کی گئی ہے۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں کے بچوں کو نئے اسکولوں، نئے تعلیمی نصاب، فاصلاتی تعلیم، انٹرنیٹ اور آلات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ بعض بچوں نے روسی علاقوں میں منتقل ہونے کے بعد پہلی بار مکمل طبی معائنہ کرایا، جس سے ان کی پوشیدہ بیماریوں کا پتہ چلا یا پہلے سے لگائے گئے بعض غلط تشخیصات ختم ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی بحالی کا مطلب صرف انہیں محفوظ مقام تک پہنچانا نہیں بلکہ ان کی تعلیم، صحت، نفسیاتی کیفیت اور سماجی زندگی کو بھی بہتر بنانا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں اور خاندانوں کی مدد کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ خیراتی تنظیموں، رضاکاروں، علاقائی حکومتوں، ماہرینِ نفسیات، اساتذہ، ڈاکٹروں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے بھی کردار ادا کیا۔ قطر نے دو سال سے زائد عرصے تک خاندانوں کے دوبارہ ملاپ میں ثالثی کی، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے بعض معاملات میں سفری، لاجسٹک اور انسانی مدد فراہم کی، جبکہ 2025 کے موسم خزاں سے امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ بھی بعض معاملات میں ثالثی کے عمل سے منسلک ہوئیں۔
ماریا لوووا-بیلووا کے مطابق اس تمام کام کا مقصد بچوں کے مفاد کو سیاست سے بالاتر رکھنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے جنگی حالات میں سب سے زیادہ کمزور طبقہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ، علاج، تعلیم، نفسیاتی بحالی اور خاندانی ماحول کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ بلیٹن میں زور دیا گیا ہے کہ ہر بچے کے معاملے کو اس کی حقیقی زندگی، اس کی خواہش، خاندان، صحت اور مستقبل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر یہ بلیٹن روسی فیڈریشن کے بچوں کے حقوق کے ادارے کی جانب سے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران کیے گئے انسانی کاموں کی ایک تفصیلی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں خاندانوں کے دوبارہ ملاپ، زخمی بچوں کی مالی مدد، یتیم بچوں کی سرپرستی، عارضی رہائشی مراکز کی صورتحال، نفسیاتی بحالی، تعلیمی مسائل، انسانی امداد اور بین الاقوامی تعاون کے تمام اہم پہلو شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روسی حکام اس کام کو جاری رکھیں گے تاکہ جنگ سے متاثرہ بچوں کو تحفظ، علاج، تعلیم، خاندان اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
جنگ ہمیشہ بچوں سے ان کا بچپن، سکون، تعلیم اور محفوظ مستقبل چھین لیتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی ریاست صرف فوجی یا سیاسی پہلوؤں تک محدود رہنے کے بجائے متاثرہ بچوں کی بحالی، نفسیاتی مدد، تعلیم، علاج اور خاندانوں سے دوبارہ ملاپ کے لیے عملی اقدامات کرے تو یہ ایک اہم انسانی پہلو تصور کیا جاتا ہے۔
روسی بچوں کے حقوق کے ادارے کی اس تفصیلی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس نے جنگ سے متاثرہ بچوں کے تحفظ کو صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسانی مشن کے طور پر لیا۔ خاص طور پر بچھڑے ہوئے بچوں کو خاندانوں سے دوبارہ ملانا، یتیم بچوں کو خاندانی ماحول فراہم کرنا، زخمی بچوں کے علاج اور مالی مدد، نفسیاتی بحالی کے پروگرام، اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بطور صحافی ، میرا ماننا ہے کہ جنگی حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بچے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ملک کی جانب سے بچوں کے تحفظ، بحالی اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے منظم، مسلسل اور انسانی بنیادوں پر کام کیا جائے تو یہ عالمی سطح پر ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
خاص طور پر “ زافترا” (یعنی “آنے والا کل”) جیسے نفسیاتی بحالی پروگرام، خاندانوں کے دوبارہ ملاپ کے انسانی واقعات، اور متاثرہ بچوں کے لیے مستقل معاونت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس بچوں کے معاملے کو صرف سیاسی تناظر میں نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگی ماحول میں مکمل انسانی تحفظ ممکن نہیں ہوتا، لیکن اس رپورٹ میں شامل اعداد و شمار، عملی اقدامات اور حقیقی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ روسی ادارے بچوں کے لیے محفوظ ماحول، نفسیاتی استحکام اور خاندانی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مسلسل متحرک ہیں۔