مغربی ممالک سرکاری سطح پر بحری قزاقی کو قانونی شکل دے رہے ہیں، روس

Maria Zakharova Maria Zakharova

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے مغربی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرکاری سطح پر بحری قزاقی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماریا زاخارووا نے فرانسیسی حکام کی جانب سے روس سے روانہ ہونے والے آئل ٹینکر “ٹاگور” کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ بات عجیب اور مضحکہ خیز محسوس ہوتی ہے، تاہم مغربی ممالک عملی طور پر بحری قزاقی کو جائز قرار دینے اور اس کی سرپرستی کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ فرانسیسی بحریہ نے برطانیہ اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے بحرِ اوقیانوس میں روس سے روانہ ہونے والے پابندیوں کی زد میں موجود آئل ٹینکر “ٹاگور” کو حراست میں لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیرِ حراست جہاز کا کپتان روسی شہری ہے۔ پیرس میں روسی سفارت خانے کے ایک نمائندے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ٹینکر کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اس معاملے کو بین الاقوامی قوانین اور جہاز رانی کی آزادی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روسی بحری جہازوں اور ٹینکروں کے خلاف ایسے اقدامات عالمی تجارت اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔