عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی اور پاکستان ۔ روس تعلقات پر اہم ویبینار

ماسکو (صدائے روس)
عالمی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور نئے سفارتی اتحادوں کے تناظر میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر ایک اہم بین الاقوامی ویبینار 9 جون 2026 کو ماسکو میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ ویبینار “Pakistan and Russia: Bilateral Relationship at the Cusp of Shifting Global Order” کے عنوان سے یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشنز (UWCM) میں ہوگا۔

اس اعلیٰ سطحی علمی و سفارتی فورم میں پاکستان اور روس کے ممتاز سفارتکار، حکومتی شخصیات، ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات، میڈیا نمائندگان اور دانشور شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق اس مکالمے کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان اور روس کے تعلقات کے نئے امکانات، علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لینا ہے۔

ویبینار میں حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے اثرات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ شرکاء اس بات پر بھی غور کریں گے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے میں کس طرح کردار ادا کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی روس اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوگی۔

ویبینار کا آغاز اسلام آباد میں قائم انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹو کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار کے افتتاحی کلمات سے ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ روسی وزارتِ خارجہ کا ایک نمائندہ بھی کلیدی خطاب کرے گا، جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری خصوصی خطاب کریں گے۔

پہلے سیشن میں سابق معاونِ خصوصی وزیر اعظم پاکستان اور تجربہ کار سفارتکار سفیر طارق فاطمی، پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، روسی ماہرہ ڈاکٹر نتالیہ زمارایوا اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان خطاب کریں گے۔ مقررین پاکستان اور روس کے تعلقات، یوریشیائی استحکام، علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور نئی سفارتی حکمتِ عملی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔

دوسرے سیشن میں قومی خودمختاری، میڈیا اور اسٹریٹجک ابلاغ جیسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔ سابق سینیٹر شیری رحمان، اسپوتنک انٹرنیشنل کے سربراہ دیمتری الیگزینڈر سائمز، معروف پاکستانی صحافی طلعت حسین اور روسی سیاسی تجزیہ کار لیونید ساون اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

منتظمین کے مطابق ویبینار میں سفارت کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تعاون، علاقائی رابطہ کاری، میڈیا تعاون اور قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ شرکاء اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان اور روس کس طرح مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔

صداۓ روس کے مطابق یہ ویبینار ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، کثیر القطبی عالمی نظام کی تشکیل اور یوریشیائی خطے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان اور روس کو ایک دوسرے کے قریب آنے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے میں یہ مکالمہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعاون کی نئی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔