ماسکو، (اشتیاق ہمدانی) — روس پاکستان کو یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے ایک اہم اور مستقبل کے شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں بھی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ یہ بات روسی وزارتِ خارجہ کی سرکاری ترجمان ماریا زاخارووا نے روسی اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے منعقدہ اپنے ہفتہ وار بریفینگ کے دوران صدائے روس (Sada-e-Rus) کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہی۔
سوالات سے قبل اشتیاق ہمدانی نے روسی فیڈریشن کو یومِ روس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے روس کے عوام کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روسی جامعات میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ نے روسی ادب اور ثقافت سے متعلق تقریبات کے ذریعے یومِ روس کی تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔
اشتیاق ہمدانی کا پہلا سوال سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF-2026) کے موقع پر روسی وزارتِ صنعت و تجارت کے نائب وزیر رومان چیکوشوف کے اس بیان سے متعلق تھا جس میں انہوں نے یوریشین اکنامک یونین اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) کے امکان پر جاری پیش رفت کا ذکر کیا تھا۔
اس سوال کے جواب میں ماریا زاخارووا نے کہا کہ اس وقت ممکنہ معاہدے کے اقتصادی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقی گروپ قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس گروپ کی سفارشات مستقبل میں آزاد تجارت سے متعلق باضابطہ مذاکرات کے آغاز کی بنیاد فراہم کریں گی۔ ماریا زاخارووا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس نے 2024 میں پاکستان کو یوریشین اکنامک یونین کے ممکنہ شراکت داروں کی فہرست میں شامل کرنے کی بھرپور حمایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ EAEU کے رکن ممالک اور پاکستان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دے گا، تمام شریک ممالک کے پیداواری شعبوں کے لیے نئی منڈیاں کھولے گا اور مستقبل کے ’’گریٹر یوریشین پارٹنرشپ‘‘ کا ایک اہم جزو ثابت ہو سکتا ہے۔
اشتیاق ہمدانی کا دوسرا سوال بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے متعلق تھا، جہاں روس اور پاکستان نے غیر قانونی ہجرت اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔
ماریا زاخارووا نے تصدیق کی کہ اجلاس کے موقع پر روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف اور پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی نے کئی اہم دوطرفہ دستاویزات پر دستخط کیے۔
ان میں روسی فیڈریشن اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان ری ایڈمیشن (Readmission) معاہدہ ، اس کے نفاذ سے متعلق پروٹوکول، اور نئی نفسیاتی اثر رکھنے والی ممنوعہ اشیاء (New Psychoactive Substances) کے خلاف تعاون کے لیے دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔
ماریا زاخارووا کے مطابق یہ معاہدے روس اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود قانونی اور معاہداتی فریم ورک میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ری ایڈمیشن معاہدہ ہجرت کے عمل کو منظم بنانے اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی مفاہمتی یادداشت 2010 میں روس اور پاکستان کے درمیان منشیات، نفسیاتی ادویات اور ان کے پیش خیمہ کیمیکلز کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کی توسیع ہے۔
ماریا زاخارووا نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور اس شعبے سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر قانونی ہجرت، منشیات کی اسمگلنگ اور نئی نفسیاتی اثر رکھنے والی ممنوعہ اشیاء کے خلاف تعاون روس اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ میں سامنے آنے والے یہ بیانات ایک بار پھر اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ماسکو پاکستان کے ساتھ نہ صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں بلکہ سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور علاقائی استحکام کے معاملات میں بھی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
رو ٹیوب پر ویڈیو دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل لینکس پر کلک کریں!
https://rutube.ru/video/6ade4243149910390b681b9bd911abee/?r=wd
https://rutube.ru/video/89a72bc49b1e96da08dc54bb0ca07be5/?r=wd