بھارت میں بھی تیل کا بحران سر اٹھانے لگا

Indian petrol pump Indian petrol pump

نئی دہلی (صدائے روس)

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈی پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک کو تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔ ان اثرات سے بھارت بھی متاثر ہونے لگا ہے، جہاں حکومت نے ڈیزل کی فروخت پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ بھارتی وزارتِ پیٹرولیم نے ملک بھر کے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی اسپیڈ ڈیزل فروخت نہ کیا جائے۔ یہ پابندی اگلے 90 روز تک نافذ رہے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی اور غیر معمولی خریداری کو روکنا ہے تاکہ سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی عالمی قیمتوں اور ترسیلی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی توانائی بحران کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں۔ بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ براہِ راست اس کی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔

ادھر یورپی ممالک سمیت دیگر خطوں میں بھی تیل اور گیس کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافے نے عالمی توانائی منڈی کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔