اسلام آباد (صداۓ روس)
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس آمدنی کا تخمینہ 5 ہزار 336 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے، پنشن کی ادائیگی کے لیے ایک ہزار 169 ارب روپے اور سبسڈیز کے لیے ایک ہزار 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی مختلف شرحوں میں بھی کمی کا اعلان کیا ہے۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی والے افراد پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح زیادہ آمدنی والے دیگر طبقات کو بھی جزوی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ بیرون ملک سفر کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر عائد ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ خواتین کے استعمال کی اشیاء جیسے سینٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر ٹیکس کے خاتمے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے۔ کراچی تا چمن این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے، سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے جبکہ ایم ایل-1 کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے آغاز کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔ بجٹ میں آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اقتصادی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ ریلوے، انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اصلاحات اور سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔