پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبہ کی ترقی، حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کا منصوبہ

Red meat Red meat

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان نے لائیو اسٹاک اور حلال گوشت کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد سال 2028 تک حلال گوشت کی برآمدات کو 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانا ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی کے تحت مویشی پالنے کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں 25 کروڑ سے زائد مویشی موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود عالمی گوشت برآمدی منڈی میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ نئی حکمتِ عملی کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنے اور سالانہ تقریباً 6 فیصد ترقی کی شرح حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے اہم نکات میں مویشیوں کی نسلوں میں بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور جدید جینیاتی تکنیکوں کا استعمال شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جانوروں میں منہ اور کھر کی بیماری سمیت مختلف متعدی امراض کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والی برآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت تجارتی بنیادوں پر جدید فارمنگ، فیڈ لاٹ سسٹم اور مویشیوں کی مکمل نگرانی پر مبنی سپلائی چین کو فروغ دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ گوشت کی محفوظ ترسیل اور معیار برقرار رکھنے کے لیے کولڈ چین انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جس سے پاکستانی گوشت کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی حیثیت مزید مضبوط ہو سکے گی۔

حکام کے مطابق چین اور خلیجی ممالک کو پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی میں خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ ان منڈیوں میں منجمد گوشت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو گیا تو نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت، مویشی پال حضرات اور زرعی شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے گا، جس سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی.